حمیرا اصغر کی انسٹا پوسٹ کئی سوالات کھڑے کر گئی
اداکارہ کی کئی روز پرانی لاش 8 جولائی کو ڈیفنس کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔
معروف اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر علی کی کئی روز پرانی لاش آج (8 جولائی بروز منگل) کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والی حمیرا گزشتہ 7 برس سے اس فلیٹ میں اکیلی رہائش پذیر تھیں۔
انہوں نے سال 2000 میں کراچی سے اپنے ٹیلی ویژن کے کریئر کا آغاز کیا اور کئی ڈراموں میں معاون کردار نبھاتی نظر آئیں جس میں ڈرامہ 'احسان فراموش' اور 'گرو' قابل ذکر ہیں۔
تاہم ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ 40 سے زیادہ تھیٹر ڈراموں میں بھی کام کرچکی ہیں اور ماڈلنگ میں بھی مصروف رہتی تھیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ بڑھ چڑھ کر فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی رہتی تھیں۔
البتہ حمیرا کو شہرت نجی ٹی وی کے ریئلٹی شو 'تماشہ' سے ملی تھی جس میں ان کے جھگڑے اور بیانات کافی چرچوں میں آئے تھے۔
اداکارہ نے گزشتہ کئی ماہ سے اپنی رہائش گاہ کے کرایے کی ادائیگی نہیں کی تھی جس پر مالک مکان نے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر رکھی تھی۔
چنانچہ جب عدالتی احکامات کے تحت بیلف اداکارہ کے فلیٹ پہنچا تو اسے سخت بو محسوس ہوئی، شبہ ہونے پر جب پولیس کے ہمراہ دروازہ توڑ کر دیکھا گیا تو وہاں حمیرا کی کئی روز پرانی لاش برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق لاش ناقبل شناخت ہے، ان کے موبائل فون نمبر کی مدد سے شناختی کارڈ کا پتا لگا کر نادرا ریکارڈ کے ذریعے ورثا کو تلاش کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب اگر حمیرا کے انسٹاگرام ہینڈل پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آتا ہے کہ انہوں نے اپنے آخری پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو پوسٹ کی تھی۔
جبکہ اس سے قبل اداکارہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بہت زیادہ ایکٹو تھیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی تصاویر اپنی فیڈ پر پوسٹ کرتی رہتی تھی لیکن گزشتہ 9 ماہ سے وہ سوشل میڈیا سے بالکل غائب تھیں۔
اداکارہ کے انسٹاگرام ہینڈل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ان کی زیادہ تر پوسٹ ان کی ماڈلنگ، ورک آوٹ، ٹریولنگ کی تصاویر، ڈراموں کے کلپس اور کچھ انٹرویو کلپس پر مشتمل تھیں۔
البتہ ان کی بے شمار پوسٹس میں سے ایک پوسٹ ان کی ذاتی زندگی کی جھلک پیش کرتی نظر آتی ہے۔
یہ پوسٹ انہوں نے گزشتہ سال 12 مئی کو عالمی یومِ ماں کے موقع پر کی تھی جس میں وہ اپنی والدہ اور ایک بچی کے ہمراہ نظر آرہی ہیں۔
اسی پوسٹ میں انہوں نے اپنے والد کی تصاویر بھی شیئر کی جو بلیک اینڈ وائٹ اور پرانی ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یا تو اب وہ اپنے والد سے رابطے میں نہیں تھیں یا پھر وہ انتقال کر گئے ہیں۔
البتہ تصویر میں نظر آنے والی بچی کون ہے اس بارے میں بھی پوسٹ سے کوئی معلومات نہیں ملتیں۔
حمیرا کی اپنی والدہ کے ہمراہ یہ تصویر دیکھ کر زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اگر ان کے اہلِ خانہ موجود ہیں تو کئی روز سے رابطہ نہ ہونے پر انہوں نے ان کی خبر کیوں نہ لی یا پولیس کو مطلع کیوں نہیں کیا؟



