حمیرا اصغر کا پوسٹ مارٹم مکمل، کیا کچھ سامنے آیا؟
حمیرا اصغر کے پڑوسی کیا کہتے ہیں؟
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 اتحاد کمرشل میں اپارٹمنٹ سے 8 جولائی بروز منگل کو معروف اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر علی کی کئی روز پرانی لاش ملنے کے بعد پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔
گزشتہ زور سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر اس وقت ہلچل مچی جب اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر علی کی لاش انکے فلیٹ سے برآمد ہوئی۔
کہا جارہا ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی حمیرا گزشتہ 7 برس سے اس فلیٹ میں اکیلی رہائش پذیر تھیں۔ جبکہ گزشتہ سال سے انہوں نے فلیٹ کے کرائے کی ادائیگی بھی نہیں کی تھی جس پر مالک مکان نے ان کے خلاف کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) میں قانونی کارروائی شروع کر رکھی تھی۔
لیکن معاملہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کرگیا جب بیلف نے اداکارہ سے فلیٹ خالی کرانے کیلئے پولیس کے ہمرای انکے فلیٹ کا دورہ کیا اور کئی بار دروازہ کھٹکٹھایا گیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا لیکن پھر جیسے ہی بیلف کو سخت بدبو کا احساس ہوا تو انہوں نے پولیس کے ہمراہ فلیٹ کا دروازہ توڑ دیا۔
جیسے ہی پولیس فلیٹ میں داخل ہوئی تو وہاں حمیرا کی کئی روز پرانی لاش برآمد ہوئی جسے بعد میں پوسٹ مارٹم کیلئے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ اداکارہ اس فلیٹ میں گزشتہ کئی سالوں سے تنہا رہائش پذیر تھیں جبکہ انکا اپنے رشتے داروں اور گھر والوں سے بھی کوئی رابطہ نہیں تھا۔
پڑوسیوں نے کیا کچھ بتایا؟
اس واقعہ کے بعد ہر جانب کیسے کہرام سا مچ گیا، تاہم حمیرا کی لاش کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پڑوسیوں نے بھی اداکارہ کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کیں۔
جیو نیوز سے گفتگو میں حمیرا کے پڑوسیوں نے بتایا کہ اداکارہ کا فلیٹ میں کسی سے زیادہ ملنا جلنا نہیں تھا، مزید یہ بات بھی سامنے آئی کہ اداکارہ اور نامور شخصیت ہونے کے باوجود انکے پاس کوئی گاڑی بھی موجود نہیں تھی۔
پڑوسیوں کے مطابق وہ لاہور سے کراچی منتقل ہوئی تھیں اور گزشتہ 7 سال سے اس فلیٹ میں رہ رہی تھیں۔
انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ حمیرا نے سال 2024 سے اس فلیٹ کا کرایہ ادا نہیں کیا تھا جس پر فلیٹ مالکان نے انکے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی تھی۔
پوسٹ مارٹم میں کیا انکشافات ہوئے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق حمیرا کی لاش کو دیکھنے کے بعد ابتدائی طور پر پولیس نے اس واقعہ کو بظاہر طبعی موت قرار دیا تھا اور معاملہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پر چھوڑا تھا۔
اب جبکہ حمیراکا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں مکمل کرلیا گیا ہے ،اس حوالے سے کراچی پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ حمیرا کی لاش انتہائی مسخ شدہ حالت میں برآمد ہوئی تاہم لاش کے تمام کیمیکل نمونے لینے کے بعد موت کی وجہ کو محفوظ کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق حمیرا کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا ہے لیکن فی الحال لاش موصول کرنے کیلئے کوئی بھی کراچی نہیں پہنچا ہے جسکے باعث لاش کو اب سرد خانے منتقل کردیا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے فی الحال اداکارہ کی موت کی وجہ کو ایک راز رکھا گیا ہے تاہم وہ اس واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرنے میں مصروف ہے اور فی الوقت اسے طبعی موت قرار دیا ہے۔
حمیرا اصغر کون؟
یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا نے سال 2020 میں کراچی سے اپنے ٹیلی ویژن کے کریئر کا آغاز کیا اور کئی ڈراموں میں معاون کردار نبھاتی نظر آئیں جس میں ڈرامہ 'احسان فراموش' اور 'گرو' قابل ذکر ہیں۔
تاہم ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ 40 سے زیادہ تھیٹر ڈراموں میں بھی کام کرچکی ہیں اور ماڈلنگ میں بھی مصروف رہتی تھیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ بڑھ چڑھ کر فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی رہتی تھیں۔
البتہ حمیرا کو شہرت نجی ٹی وی کے ریئلٹی شو 'تماشہ' سے ملی تھی جس میں ان کے جھگڑے اور بیانات کافی چرچوں میں آئے تھے۔



