اسکینڈلز

حمیرا اصغر کا فیملی سے تعلق کیسا تھا؟ پرانی ویڈیو وائرل

حمیرا اصغر کو والد کی جانب سے رکاوٹ کا سامنا تھا؟

Web Desk

حمیرا اصغر کا فیملی سے تعلق کیسا تھا؟ پرانی ویڈیو وائرل

حمیرا اصغر کو والد کی جانب سے رکاوٹ کا سامنا تھا؟

حمیرا اصغر کا والد سے متعلق دیا گیا پرانا بیان وائرل
حمیرا اصغر کا والد سے متعلق دیا گیا پرانا بیان وائرل

پاکستانی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کے جسدِ خاکی کو فیملی کی جانب سے موصول نہ کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں وہ اپنی فیملی سے تعلق کے بارے میں بات کرتی نظر آئیں۔

کبھی اپنی اداکاری کے سبب مشہور ہونے کی چاہ رکھنے والی حمیرا اصغر اب اپنی چونکا دینے والی موت کی سبب چرچوں میں آچکی ہیں۔

8 جولائی کو اداکارہ کی کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کے ایک اپارٹمنٹ سے لاش برآمد ہوئی جو قابلِ شناخت نہیں تھی۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال لے جایا گیا اور اس کے بعد حمیرا اصغر کے گھر والوں سے رابطہ کیا گیا تاکہ اداکارہ کی میت انکے حوالے کردی جائے لیکن فیملی کی جانب سے ایک ایسا انکشاف کیا گیا جو سب کو حیران کرگیا۔

پہلے سوشل میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئیں کہ حمیرا کے والد نے انکی میت وصول کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن اب ایس ایس پی ساؤتھ محذور علی کی ایک ویڈیو زیرِ گردش ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ حمیرا کے والد نے کہا کہ وہ دو سال سے بیٹی سے رابطے میں نہیں تھے اور رشتہ توڑ چکے ہیں، میت کو لینے سے متعلق انہوں نے سوچنے کا وقت مانگا ہے جس کے بعد وہ فیصلہ سنائیں گے کہ وہ بیٹی کی لاش وصقل کرینگے کہ نہیں‘۔

ان تمام خبروں کے بیچ حمیرا اصغر کے ایک پرانے انٹرویو کی کلپ وائرل ہے جس میں وہ اپنی فیملی سے متعلق بات کرتی نظر آئیں۔

حمیرا اصغر کہتی سنائی دیں کہ ’میری کوشش ہوتی ہے کہ ہمیشہ سب کو ساتھ لیکر چلوں، جیسے الحمداللہ اب میں کراچی شہر میں رہتی ہوں لیکن میرا اپنے والدین اور فیملی کے ساتھ ایسا تعلق ہے کہ اگر میں ان سے ملنے کیلئے مہینوں تک بھی نہیں جاپاتی تو انکو فون کال پر لازمی پتہ ہوتا ہے کہ میں کونسا ڈراما کر رہی ہوں، کہاں پر ہوں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ جو کام میں کر رہی ہوں اس میں فیملی کی سپورٹ بہت ضروری ہوتی ہے، میری والدہ نے مجھے کبھی نہیں روکا، شروع میں تھوڑا سا ٹوکا کیونکہ میرے گھر میں سب ڈاکٹر ہیں تو میرا اکیلے دوسری فیلڈ میں آنا وہ بھی ایسی فیلڈ جو سوسائٹی میں مشکل سے قبول کی جاتی ہے، ابتدائی دنوں میں مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر جب انہوں نے دیکھا کہ میں اس فیلڈ میں ٹھیک ہوں تو پھر کچھ نہیں کہا۔‘