حمیرا اصغر گزشتہ 10 ماہ سے لاپتہ، سب لاعلم، آخر کیوں؟
اداکارہ کے لاپتہ ہونے کا اعلان بھی کیا گیا تھا
35 سالہ معروف اداکارہ ، ماڈل اور فٹنس فریک حمیرا اصغر کی دل دہلا دینے والی موت کے سبب جہاں ہر جانب ایک پریشانی کا عالم ہے وہیں تہہ در تہہ کھلنے والے راز ہر سننے، دیکھنے اور پڑھنے والوں کے رونگٹے کھڑے کررہے ہیں۔
بے شک ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے، لیکن کچھ اموات ایسی ہوتی ہیں جس پر سالوں یقین نہیں ہوتا، ایسا ہی کچھ شوبز انڈسٹری کی اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کیساتھ بھی ہوا۔
حمیرا اصغر کون؟
پاکستان کے سب سے بڑے ریئلیٹی شو 'تماشہ' میں بطور کنٹیسٹنٹ اپنی پہچان بنانے والی حمیرا اصغر نے ماڈلنگ اور اداکاری دونوں کی دنیا میں کام کیا، انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور ماڈل 2013 میں کیا لیکن پھر ٹی وی اسکرینز کا رخ کیا اور ’لالی‘ ، ’بے نام‘ ، ’چل دل میرے‘ ، ’احسان فراموش‘ ، ’گرو‘ اور ’صراطِ مستقیم‘ جیسے ڈراموں میں جلوہ گر ہوئیں۔
علاوہ ازیں حمیرا نہ صرف ایک درد دل رکھنے والی شخصیت تھیں بلکہ بچوں کیساتھ ہمدردی اور پیار کرنا بھی انکی شخصیت کا اہم جز تھا۔
لیکن آخر ایسا بھی کیا ہوگیا کہ حمیرا کے والدین نے ان سے قطع تعلق کرلیا اور اداکارہ گزشتہ کئی سالوں سے تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں۔
حمیرا اصغر کی پر اسرار موت:
8 جولائی کو ہر جانب اس وقت کہرام مچا جب کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 اتحاد کمرشل میں اپارٹمنٹ سے معروف اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی جہاں وہ گزشتہ 7 سال سے تنہا رہائش پذیر تھیں۔
لاش کی اطلاع اس وقت ہوئی جب مکان مالک نے گزشتہ کئی مہینوں سے فلیٹ کا کرایہ ادا نہ کرنے پر اداکارہ کے خلاف قانونی کارروائی کی، اور اسی کارروائی کے سبب جب بیلف پولیس کے ہمراہ حمیرا سے فلیٹ خالی کرانے انکی رہائش گاہ پہنچی تو وہاں کہانی ہی کچھ اور سامنے آئی۔
بار بار دروازہ کھٹکھٹانے پر جب کوئی جواب نہ ملا اور مسلسل گھر سے بدبو اٹھنے کے بعد پولیس دروازہ توڑنے پر آمادہ ہوئی تو اداکارہ کمرے میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔
حمیرا کی لاش اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ انکی شناخت ناممکن تھی جبکہ انکے جسم کے کئی اعضاء بھی گل سڑ گئے تھے۔
پنک ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس حمیرا کے آس پاس حشرات الارض کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ انکے سر کا پچھلا حصہ اور گھٹنے کے جوڑ بھی کھل چکے تھے، اور ایک ہاتھ بھی گل سڑ کر جسم سے علیحدہ ہوچکا تھا۔
حمیرا کے پوسٹ مارٹم میں کیا آیا؟
مسخ شدہ لاش کو بر آمد کرنے کے بعد اداکارہ کے گھر اور موبائل کا جائزہ لیا گیا جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انکا پوسٹ مارٹم ہوا، اس رپورٹ کے تیار ہونےسے قبل پولیس حکام نے پہلے یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ لاش 2 ہفتے سے ایک ماہ پرانی ہے۔
لیکن پھر جیسے تہلکہ خیز انکشافات آنے کا سلسہ شروع ہوگیا ایس ایس پی سائوتھ مہزورعلی نے اب تک ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں امکان ظاہر کیا ہے کہ حمیرا اصغر کی لاش ممکنہ طور پر 6 ماہ سے زائد پرانی لگتی ہے۔
ابھی تحقیقات جاری ہی تھی کہ اس کہانی نے اس وقت ایک سنسنی خیز موڑ لیا جب اداکارہ کے گھر والوں بالخصوص والد نے یہ کہہ کر لاش موصول کرنے سے انکار کردیا کہ،’2 سال قبل حمیرا سے تعلق توڑ لیا تھا، آپ کو اس کی لاش کے ساتھ جو کرنا ہے کرلیں، ہمارا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہم میت کو لینے کراچی آئیں گے’۔
والد کے اس فیصلے کے بعد حمیرا کی مسخ شدہ لاش کو سرد خانے منتقل کردیا گیا، جسکے بعد کئی شوبز ستاروں بالخصوص سونیا حسین نے اداکارہ کی آخری رسومات ادا کرنے کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا۔
تاہم اب حمیرا کی بہن اور بہنوئی نے پولیس سے رابطہ کیا ہے جس میں انہوں نےحمیرا کی لاش موصول کرنے کیلئے آج بروز 10 جولائی لاہور سے کراچی آنے کا عندیہ دیا ہے۔
حمیرا کی گمشدگی، سب لاعلم کیوں؟
دیکھا جائے تو ابھی بھی حمیرا کی موت ایک معمہ بنی ہوئی ہے حالانکہ پہلے اس موت کو طبعی موت قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ ممکنہ طور پر حمیرا کی موت فوڈ پوائزن کے سبب ہوئی لیکن لاش کی حالت اور انکی گمشدگی کے بعد کسی کا ان سے رابطہ نہ کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
کیونکہ ایک ایسی شخصیت جو سوشل میڈیا پر فعال رہتی تھی اچانک منظر سے غائب ہوگئی، انکے فون ریکارڈ میں بھی آخری میسج ستمبر 2024 کے ہیں جو ایک آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کے ہیں۔
جبکہ فلیٹ کے مالک سے بھی ان کا آخری رابطہ 2024 میں ہی ہوا تھا اور انہوں نے آخری مرتبہ مئی 2024 میں کرایہ ادا کیا تھا۔ یہاں تک کی اداکارہ نے بجلی کا بل بھی ادا نہیں کیا تھا جس پر کے الیکٹرک کی جانب سے اکتوبر کے آخر میں بجلی بھی کاٹ دی گئی تھی۔
اور پھر حمیرا کا ایکٹیو سوشل میڈیا اکاؤنٹ جہاں ان کی آخری پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو شیئر کی گئی تھی اور اس کے بعد سے وہ مکمل طور پر غائب تھی۔
گمشدگی کے اعلانات کے باوجود سب خاموش تماشائی:
حالانکہ حمیرا کی گمشدگی کی خبریں مخلتف سوشل میڈیا پیچز پر پوسٹ کی گئیں لیکن شوبز انڈسٹری یا فیملی سے کوئی ایک بھی شخص ایسا نہ تھا جس نے ان خبروں پر کان دھرے ہوں۔
اداکارہ کا گزشتہ برس اکتوبر سے کسی سے کوئی رابطہ نہ تھا تو چار ماہ بعد یعنی فروری 2024 میں جب شوبز اینڈ نیوز نامی ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں حمیرا کی لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
پوسٹ میں یہ اعلان تھا کہ حمیرا اصغر گزشتہ چار ماہ سے لاپتہ ہیں انکا فون بھی بند جارہا ہے اور 7 اکتوبر سے وہ سوشل میڈیا پر بھی ایکٹو نہیں ہوئی۔
اس پوسٹ میں انکی دعائے خیر کیلئے مزید یہ بھی لکھا گیا تھا کہ حمیرا اصغر نے 7 اکتوبر کے بعد سے اپنی انسٹاگرام اور فیس بک اسٹوریز پر ایک بھی پوسٹ نہیں کی۔دل سے دعا گو ہیں کہ وہ خیریت سے ہوں’۔
اور پھر فلانٹ پاکستان میگزین نے بھی ٹھیک اسی دن فیس بک میں میں حمیرا سے متعلق انکے لاپتہ ہونے کا اعلان کیا۔
پوسٹ میں واضح الفاظ میں لکھا تھا کہ،’حمیرا علی چوہدری، جنہوں نے 2022 میں ریئلٹی شو 'تماشا' کے پہلے سیزن سے شہرت حاصل کی، 7 اکتوبر 2024 سے لاپتہ ہیں، جیسا کہ مختلف رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے۔
اداکارہ نے 7 اکتوبر 2024 کے بعد سے اپنی انسٹاگرام یا فیس بک اسٹوریز پر کوئی بھی پوسٹ نہیں کی۔ان کا واٹس ایپ ’لاسٹ سین‘ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ 7 اکتوبر کے بعد سے اپنا واٹس ایپ نمبر استعمال نہیں کر رہیں۔
پوسٹ میں مزید یہ بھی لکھا تھا کہ،‘ذرائع کے مطابق اداکارہ کا موبائل فون بھی مسلسل بند ہے اور پچھلے چار ماہ سے نہ وہ کسی شوٹنگ میں دیکھی گئی ہیں، نہ ہی کسی تقریب میں شرکت کی اطلاع ہے۔
انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ اداکارہ کے ساتھ 2 اکتوبر 2024 کو کام کیا تھا، جو اب تک ان کا آخری پیشہ ورانہ منصوبہ ثابت ہو رہا ہے جبکہ انکی خیرو عافیت کیلئے دعائیں ہیں۔
صارفین کا ردعمل:
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک ایسی شخصیت جو انڈسٹری میں بھی خاصی مشہور تھی اسکے لاپتہ ہونے کے بعد کوئی بھلا کیسے خاموش رہ سکتا ہے؟ کیا شوبز انڈسٹری، دوستوں یا فیملی میں کوئی بھی ایسا شخص موجود نہیں جو حمیرا سے رابطہ کرتا یا سے کنیکٹ رہتا؟؟
ایک صارف نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ،‘یہ ناقابلِ یقین حقیقت ہے ،کیا واقعی کسی نے بھی نوٹس نہیں کیا؟کم سے کم کوئی ایک بہترین دوست تو ضرور ہوگی؟’
ایک اور صارف نے لکھا کہ،‘یہ پوسٹ فروری کی ہے۔ اور اب مہینوں پرانی لاش اس کے اپارٹمنٹ سے ملی ہے، وہ بھی کراچی جیسے مصروف شہر کے بیچوں بیچ۔نہ کسی نے تلاش کیا،نہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک عورت مہینوں تک سڑتی رہی اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی؟
صارف نے مزید لکھا کہ،‘کراچی نے نہ صرف اسے نظر انداز کیا ہے بلکہ اسے خاموشی میں دفنا دیا۔یہ صرف ایک سانحہ نہیں، یہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔
نامور شخصیات کی اظہار ہمدردی:
اب جبکہ ہر جانب صرف حمیرا اصغر کے نام کی خبریں سرگرم ہیں وہیں شوبز شخصیات بھی اداکارہ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتی نظر آرہی ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات سے لہو گرما رہی ہیں۔
تاہم اداکارہ علیزے شاہ نے ایک ایسے پہلو پر آواز بلند کی ہے جس میں حمیرا کے مرنے کے بعد ان سے متعلق پوسٹس جاری ہیں۔
علیزے شاہ نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسٹوری میں لکھا کہ،’حمیرا کی موت کو لائکس اور سرخیوں کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔اگر واقعی کسی کو پرواہ ہوتی، تو وہ یہ محبت اور فکر تب دکھاتے جب وہ زندہ اور تنہا تھی۔!!’۔
علیزے شاہ نے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ،‘دل ٹوٹ جاتا ہے یہ منافقت دیکھ کر۔ کہ اب لوگ حمیرا کی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں، لمبے لمبے کیپشنز لکھ رہے ہیں کہ ’کتنا افسوس ہوا اُس کے جانے کا’،مگر جب وہ ایک مہینے تک غائب رہی،تب کسی نے یہ تک نہیں پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟’
آخر میں اداکارہ نے حمیرا کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے مزید لکھا کہ،‘نہ کوئی فون آیا، نہ کوئی دروازہ کھٹکھٹایا۔اللہ پاک اسے وہ سکون عطا فرمائے، جو یہ دنیا اسے نہ دے سکی۔
دانش مقصود کا حمیرا کی آخری رسومات کا خرچہ اٹھانے کا اعلان:
دوسری جانب دانش مقصود جنہوں نے پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں تقریباً 12 سال بطور میڈیا پروفیشنل مختلف کرداروں میں خدمات انجام دیں۔آج وہ Applause Pakistan Magazine کے چیف ایڈیٹر اور سی ای او کے طور پر اس بین الاقوامی اشاعت کو چلا رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں ایک خاص اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ،‘کیا کوئی مجھے حمیرا علی چوہدری کی میت کے مقام سے جوڑ سکتا ہے؟میں چاہتا ہوں کہ ان کے آخری رسومات کے تمام اخراجات برداشت کروں اور ان کی نمازِ جنازہ کا انتظام کرواؤں۔’
دانش نے بتایا کہ،‘حمیرا 7 اکتوبر سے لاپتہ تھیں اور میری دونوں اشاعتوں (پبلیکیشنز) نے اس معاملے پر آواز اٹھائی تھی، مگر افسوس کہ بڑی اشاعتیں صرف تب خبریں شیئر کرتی ہیں جب کوئی فنکار دنیا سے چلا جائے۔’
انہوں نے اداکارہ کیساتھ کام کے تجربے پر بات کرتے ہوئے مزید یہ بھی بتایا کہ،‘حمیرا نے ہماری میگزین کے لیے دو بار کام کیا تھا، اس لیے میں یہ ذمہ داری اپنی طرف سے ادا کرنا چاہتا ہوں۔براہِ کرم کوئی مجھے متعلقہ حکام یا افراد سے رابطہ کروائے۔میں ان کے لیے وہ سب کرنا چاہتا ہوں جو وہ زندگی میں شاید کسی سے مانگ نہیں سکیں۔’
اقرار الحسن بھی حمیرا کی موت پر رنجیدہ:
دوسری جانب سینیئر اینکر پرسن اقرار الحدن نے بھی حمیرا اصغر کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ساتھ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونے پر بھی زور دیا ہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ،’اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش نو مہینے پرانی ! ہے کیا یہ قتل ہے؟۔
اقرار الحسن نے اس سنگین صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مزید لکھا کہ،‘حمیرا کے جسم کے سب سے آخر میں ڈی کمپوز ہونے والے اعضاء یعنی سر کا پچھلا حصہ اور گھٹنے بھی گل چکے تھے۔ ایک ہاتھ بھی گل سڑ کر علیحدہ ہو گیا تھا۔۔ معاملہ اتنا سیدھا نہیں جتنا رپورٹ ہوا ہے۔’
انہوں نے واضح کیا کہ،‘اس کیس کو ہر پہلو تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اگر اس لڑکی کے ساتھ کوئی ظلم ہوا ہے تو اسے انصاف مل سکے۔





