فلم ’بازیگر‘ کی اصل کہانی کیا؟
‘بازیگر‘ کی جو کہانی آپ نے دیکھی، وہ اصل کہانی نہیں تھی؟
شاہ رخ خان کی بلاک بسٹر فلم بازیگر کی اصل کہانی بالکل مختلف تھی؟ ایک ایسا کردار، جو ولن بھی ہے، لیکن دلوں پر راج بھی کرتا ہے۔
سال 1993 میں انڈین سنیما میں ایک طوفان آیا، فلم کا نام تھا بازیگر۔ شاہ رخ خان نے جب اس فلم میں ایک منفی کردار نبھایا، تو سب حیران رہ گئے۔
یہ ان کے کیریئر کی شروعات تھی، اور ایسے وقت میں نیگیٹو رول چُننا ایک بہت بڑا رسک تھا۔ لیکن یہ جوا کام کر گیا۔ نہ صرف فلم سپر ہٹ ہوئی، بلکہ شاہ رخ خان نے اینٹی ہیرو کو سنیما کا نیا ہیرو بنا دیا۔
لیکن یہ بات آپ کیلئے ضرور حیران کُن ہوگی کہ ‘بازیگر‘ کی جو کہانی آپ نے دیکھی، وہ اصل کہانی نہیں تھی؟
ہدایتکار جوڑی عباس مستان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ فلم کا پہلا ڈرافٹ مکمل طور پر مختلف تھا۔اس کہانی میں ہیرو مکمل ولن تھا۔اس کا بچپن تکلیفوں سے بھرا ہوا تھا۔
باپ شرابی، جو ماں کو مارتا تھا۔یہ بچہ دل ہی دل میں سوچتا رہتا تھا کہ ایک دن امیر بنے گا، چاہے کچھ بھی کرنا پڑے۔ پھر بڑا ہو کر وہ ایک امیر بزنس مین مدن چوپڑا کی دو بیٹیوں کے ساتھ تعلق بناتا ہے۔ ایک بیٹی کو وہ قتل کر دیتا ہے، اور جب دوسری کو سچائی کا علم ہوتا ہے، تو وہ خود اسے مار دیتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ کہانی بدلی کیوں گئی؟اس کے جواب میں مستان برماوالا نے بتایا کہ ان کے لیے یہ ضروری تھا کہ ناظرین کو ہیرو سے ہمدردی ہو۔اگر کوئی غلط کام کر رہا ہے، تو اس کے پیچھے کی وجہ کیا ہے؟اس کا بیک گراؤنڈ کیا ہے؟ اسی سوچ نے فلم کی کہانی کو مکمل بدل دیا۔ انہوں نے پرکاش مہرا اور منموہن دیسائی جیسے لیجنڈری ڈائریکٹرز سے سیکھا کہ فلم تبھی ہٹ ہوتی ہے جب اس میں ایموشن ہو۔
وہ کہانی جو آخرکار بازیگر بنی
فلم کی کہانی میں کیا تبدیلی ہوئی؟ شاہ رخ خان کا کردار تھا اجے شرما۔ ایک ایسا نوجوان، جس کے والد کو ایک لالچی بزنس مین مدن چوپڑا دھوکہ دے کر مار دیتا ہے۔ اس کی ماں پاگل ہو جاتی ہے، اور بہن بھی دنیا سے چلی جاتی ہے۔ یہ بچہ بدلے کی آگ میں جلنے لگتا ہے۔سالوں بعد، وہ نیا نام اختیار کرتا ہے اور مدن چوپڑا کی بیٹیوں کو نشانہ بناتا ہے۔
پہلی بیٹی (سیما) کو وہ محبت کے جال میں پھنسا کر قتل کر دیتا ہے لیکن دوسری بیٹی (پریا) سے اسے اصلی محبت ہو جاتی ہے۔ آخری سین میں، جب اس کا سچ سامنے آتا ہے، تو وہ زخمی ہو کر مر جاتا ہے ماں کی گود میں۔
بازیگر نہ صرف شاہ رخ خان کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ بنی، بلکہ انڈین سنیما میں اینٹی ہیرو کی روایت کو مضبوطی سے متعارف کرایا۔
فلم کا مشہور ڈائیلاگ ’کبھی کبھی کچھ جیتنے کے لیے کچھ ہارنا بھی پڑتا ہے‘ بعد میں شامل کیا گیا تھا۔
فلم کی کامیابی کے بعد شاہ رخ خان نے کہا تھا کہ ’میں ولن بن کر آیا، اور سب کا ہیرو بن گیا۔‘




