جے دیپ کا ایک دن میں 40 روٹیاں کھانے کا انکشاف
روزانہ ڈیڑھ لیٹر دودھ بھی پیا کرتا تھا، جے دیپ
اداکار جے دیپ اہلاوت نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے طاقتور میٹابولزم کی وجہ سے ایک دن میں 40 روٹیاں کھاجاتے اور ڈیڑھ کلو دودھ پی لیا کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2008 تک ان کا وزن 70 کلو سے زیادہ نہیں بڑھا، حالانکہ ان کا قد کافی لمبا ہے، وہ روزانہ کم از کم 40 روٹیاں کھا لیتے تھے کیونکہ جتنا کھاتے تھے، اتنا ہی کام بھی کرتے تھے اور سب کچھ ہضم ہو جاتا تھا۔
جے دیپ ہریانہ کے ایک گاؤں میں پلے بڑھے، انہوں نے بتایا کہ کہ وہ دوپہر کا کھانا اکثر چھوڑ دیتے تھے اور سیدھے کھیتوں سے گنے، گاجر، امرود یا جو کچھ بھی موسم میں اُگا ہوتا، وہی کھا لیتے تھے۔
جے دیپ نے کہا کہ صبح کے وقت چنے، باجرے کی روٹی، یا مسی روٹی کے ساتھ لسی، مکھن اور چٹنی کھاتے اور شام کو گھر پر کھانا ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ دودھ ان کی غذا کا لازمی حصہ تھا اور روزانہ کم از کم تین بار آدھا لیٹر دودھ پیتے تھے، گلاس میں پینے کی اجازت نہیں تھی، صرف لوٹے یا جگ میں پیتے تھے، یہ بالکل عام بات تھی۔
جے دیپ کہتے ہیں کہ وہ پچھلے 15–16 سال سے ممبئی میں ہیں لیکن آج بھی زیادہ تر گھر کا بنا کھانا ہی کھاتے ہیں، اگر کسی پارٹی میں بھی جائیں، تب بھی واپسی پر گھر آ کر اپنا کھانا کھاتے ہیں۔
ماہر غذائیت کا تجزیہ:
کنیکا ملہوترا، ایک تجربہ کار ڈائیٹیشین اور ذیابیطس کی ماہر کا جے دیپ کی کھانے کی روٹین سے متعلق کہنا تھا کہ اگر بچے دیہاتی اور فعال طرز زندگی گزار رہے ہوں تو کھیتوں سے تازہ پھل اور سبزیاں کھانا، دوپہر کے کھانے کو چھوڑ دینا، کبھی کبھار فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
اس سے وٹامن، فائبر اور منرلز تو مل جاتے ہیں لیکن اگر باقاعدہ اور متوازن خوراک نہ لی جائے توپروٹین، اچھی چکنائیاں،اور ضروری غذائی اجزاء کی کمی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحیح نشوونما کے لیے متوازن کھانے ضروری ہیں جن میں ہر قسم کے غذائی اجزاء شامل ہوں۔
روزانہ 40 روٹیاں اور وزن نہ بڑھنا؟
انہوں نے کہا کہ جے دیپ کی مثال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص بہت زیادہ جسمانی سرگرمی کرتا ہے، تو وہ زیادہ کیلوریز جلا سکتا ہے اور وزن نہیں بڑھتا لیکن زیادہ تر لوگ یہ طرزِ زندگی لمبے عرصے تک نہیں اپنا سکتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلسل ایک ہی قسم کا کھانا جیسے صرف روٹیاں کھانے سے جسم میں کچھ غذائی اجزاء کی کمی ہو سکتی ہے اور میٹابولک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔



