انفوٹینمنٹ

حمیرا کی موت سے خوفزدہ شوبز انڈسٹری نے بڑا قدم اٹھالیا

سونیا حسین کا انڈسٹری کے حوالے سے بڑا انکشاف

Web Desk

حمیرا کی موت سے خوفزدہ شوبز انڈسٹری نے بڑا قدم اٹھالیا

سونیا حسین کا انڈسٹری کے حوالے سے بڑا انکشاف

سونیا حسین نے بڑا انکشاف کردیا
سونیا حسین نے بڑا انکشاف کردیا

اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی تنہائی میں موت اور کئی ماہ بعد لاش کی برآمدگی نے ایسے بہت سے افراد کے دل میں خوف پیدا کردیا ہے جو اکیلے رہائش پذیر ہیں۔

کراچی جیسے گنجان آباد شہر کے بیچ ایک علیحدہ گھر نہیں بلکہ ایک اپارٹمنٹ کی بلڈنگ میں ایک عورت 9 ماہ سے مردہ حالت میں زمین پر پڑی رہی اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔

حمیرا کی موت نے جہاں عزیزوں اور پڑوسیوں سے رابطے میں رہنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے وہیں دوسروں کی خبر گیری کرنے کی روایت کو از سرِ نو زندہ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس انسانوں سے بھرے جنگل نما شہر میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو کام کے سلسلے میں دوسرے شہروں میں اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آبسے ہیں اور اکیلے ہی اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔

ان لوگوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو میڈیا یا شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں۔

چنانچہ حمیرا اصغر علی کے ساتھ پیش آئے اس سانحے کے بعد اب شوبز انڈسٹری نے ایک دوسرے کی خبر گیری کرنے کے لیے ایک قدم اٹھایا ہے۔

اس بات کا انکشاف اداکارہ سونیا حسین نے انسٹاگرام پر ایک تازہ ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔

 جس میں انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے حمیرا کی آخری رسومات ادا کرنے کی ذمہ داری لینے کے پولیس سے رابطہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بہنوئی اور بھائی لاش وصول کرنے کراچی آرہے ہیں کیوں کہ لاش خونی رشتے کو سونپی جاتی ہے۔

سونیا حسین نے بتایا کہ 'اس واقعے سے متاثر ہو کر گزشتہ رات شوبز انڈسٹری میں ایک گروپ بنایا گیا ہے جس میں تمام آرٹسٹ، تمام میک اپ آرٹسٹ تمام ٹیکنیکل عملہ، جتنی بھی لڑکیاں جو کسی بھی وجہ سے اپنی فیملی سے دور رہ رہی ہیں ان سب کو اس میں شامل کیا گیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'سینئر اداکارہ روبینہ اشرف نے بھی کل مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ ان سارے معاملات میں بھرپور طریقے سے سرگرم عمل ہیں، اس کے علاوہ یاسر حسین نے بھی مجھ سے رابطہ کیا، علاوہ ازیں انڈسٹری کی ایک آرگنائزیشن ہے ایکٹ وہ بھی اس حوالے سے ایکشن لے رہی ہے'۔

'لیکن صرف ایک آرگنائزیشن پوری انڈسٹری کو نہیں دیکھ سکتی، یہ وہ وقت ہے کہ ہم سب کو انفرادی سطح پر ذمہ داری اٹھانے کی ضرورت ہے، ماں باپ بہن بھائیوں کا خیال رکھنا تو ہم پر ویسے ہی فرض ہے لیکن پڑوسیوں اور دوست احباب کی خبر گیری کرنا بھی ہمارا فرض ہے'۔

'جن سے ہم پوچھتے رہیں کہ کھانے پینے کے لیے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں، بھوکے تو نہیں، بیمار تو نہیں، اسپتال جانے کی ضرورت تو نہیں، اگر ایک ایک انسان اس طرح 5، 5 افراد کی خبر گیری کرنا شروع کردے تو شاید اس طرح کے افسوسناک واقعات آج کے بعد پیش نہ آئیں'۔