حمیرا کا والد سے کیا اختلاف تھا؟ بھائی کا انکشاف
نوید اصغر نے بتایا کہ بہن سے سوا سال سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
متوفی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر علی کے بھائی نے ان کی میت وصول کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کے خاندانی اختلاف پر مبہم انداز میں روشنی ڈال دی۔
رمضان چھیپا کے ہمراہ میڈیا یسے گفتگو کرتے ہوئےمیڈیا سے بات کرتے ہوئے نوید اصغر کا کہنا تھا کہ 'میڈیا میں مؤقف پیش کیا گیا کہ ان کے والدین اپنی بیٹی کو اون نہیں کررہے اور میت وصول نہیں کررہے، لیکن اگر کوئی لاش پولیس کی کسڈی میں ہو تو اسے وصول کرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے'۔
انہوں نے بتایا کہ 'میڈیا میں کہا گیا کہ ہم نے لاش وصول کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ ہم گزشتہ 3 روز سے چھیپا صاحب، پولیس افسران، فاروق سنجرانی کے ساتھ رابطے میں تھے اور ضابطے کی کارروائیاں کررہے تھے'۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ میری چھوٹی پھپھو کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ کوما میں چلی گئی اور پھر ان کا انتقال ہوگیا، میرے والدین اس کی وجہ سے شدید پریشان تھے اور اسی دوران ہمیں حمیرا کی موت کی اطلاع ملی تو ہمارے حواس کام کرنا چھوڑ گئے، اور پھر میڈیا نے کالز کر کر کے پریشان کردیا، ایسے میں میرے والد نے کہہ دیا کہ اگر کوئی ایمرجنسی ہے تو وہیں تدفین کردیں'۔
انہوں نے کہا کہ والدہ یہ خبر سن کر بے حد صدمے میں ہیں، اس کے بعد ہم نے حکام سے رابطہ کیا اور آکر میت وصول کی ہے۔
بہن سے اختلافات کے سوال پر نوید اصغر نے کہا کہ 'میری بہن انڈیپنڈنٹ تھی اور اپنی مرضی سے 7 سال قبل کراچی منتقل ہوئی تھی، شوبز میں جو کام کیا اس نے اپنی مرضی سے کیا، البتہ والدین اپنے طور پر بچوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں جیسے اتنی دیر سے گھر کیوں آئی ہو وغیرہ، ایسا ہر فیملی میں ہوتا جس پر اس نے ایک دوبار والد صاحب کو جواب دیا کہ میں اپنے معاملات کی خود ذمہ دار ہوں'۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'اس قسم کی بات پر دوسرے پھر مداخلت سے گریز کرتے ہیں، چنانچہ ہم نے اسے اجازت دی کہ آپ نے اپنے جو معاملات کرنے ہیں کریں تو اس کے بعد وہ کبھی مہینوں مہینوں یا سال بعد گھر کا چکر لگاتی تھی لیکن تقریباً سال ڈیڑھ سال سے اس کا ہم سے رابطہ بالکل منقطع ہوگیا تھا'۔
نوید اصغر نے کہا کہ 'میری والدہ نے کئی بار اس سے پوچھا کہ مجھے بتاؤ آپ کہاں رہتی ہوں، کہاں جاتی ہو، کس کے پاس مقیم ہو وغیرہ وغیرہ، لیکن اس نے نہیں بتایا'۔
بھائی کا مزید کہنا تھا کہ 'جب اس کے موبائل فونز وغیرہ بند ہوگئے اور والدہ نے ہمیں بتایا کہ میرا اس سے 6 ماہ سے رابطہ نہیں ہوا تو پھر ہم نے اس کے نمبرز پر رابطہ کرنے کی کوشش کی جو بند تھے، پھر میں نے گھر سے ایک ڈائری ڈھونڈ کر اس کی چند دوستوں کو فون کیا جس میں سے ایک نے اسے جاننے سے انکار کردیا'۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'اس کے بعد ایک اور مرتبہ ہم نے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور والدہ سے اس کے کولیگز یا رہائش وغیرہ کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس نے کئی سال سے انہیں ایسی کوئی بات نہیں بتائی'۔
نوید اصغر کا کہنا تھا کہ 'جب ہمیں اس کی موت کا پتا چلا تو ہم ایک دم شاک ہوگئے، اور اس سے پہلے پھپھو کی موت کا صدمہ، اس کے علاوہ جو لاش کی صورتحال ہے اس کے بارے میں مبشر لقمان جو ہمارے رشتہ دار ہیں ان کا کہنا تھا کہ میں تصویر نہیں دیکھ سکتا'۔
'ان ساری چیزوں کو دیکھتے ہوئے میری والدہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور انہوں نے کہا کہ میں مر جاؤں گی میں نہیں دیکھ سکوں گی، اسی بات پر میرے والد نے میت وصول نہ کرنے کا کہہ دیا اور میڈیا نے اس بات کو اچھال دیا'۔
انہوں نے کہا کہ 'میں یہاں والد کی اجازت سے ہی آیا ہوں اور سارے معاملات کیے ہیں، وہ انڈیپنڈنٹ تھی اور اپنی خؤشی سے یہاں رہ رہی تھی'۔
نوید اصغر نے کہا کہ 'میڈیا کو میری فیملی ڈسکس کرنے کے بجائے مالک مکان سے سوالات کرنے چاہیے،؟ مالک مکان نے کسی نے سوال کیوں نہیں کیا سارا فوکس فیملی پر رکھا ہوا'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم سوال کرتے ہیں کہ اپارٹمنٹ کی دو چابیاں ہوتی ہیں، اگر کوئی کھول کر اندر گیا تو دیکھا جائے، اگر دروازہ توڑا گیا ہے تو چیک کیا جائے کہ وہ اندر سے بند تھا یا نہیں؟ جس عمارت میں حمیرا رہائش پذیر تھی وہاں کیمرے کیوں نہیں کیونکہ اگر سی سی ٹی وی ہوتے تو پھر حقائق سامنے آجاتے'۔
مقدمے کے حوالے سے اداکارہ کے بھائی نے کہا کہ پوسٹ مارٹم اور دیگر فرانزیک رپورٹس آنے کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کرٰیں گے اور ہم تدفین کے حوالے سے والد سے مشورہ کر کے پروگرام طے کریں گے۔
اداکارہ حمیرا اصغر کے بھائی نوید اصغر شام کو لاہور سے کراچی پہنچے تھے جس کے بعد انہوں نے پولیس سے رابطہ کر کے قانونی کارروائی مکمل کی اور پھر چھیپا فاؤنڈیشن نے میت حوالے کردی۔
دوسری جانب رمضان چھیپا نے کہا کہ حمیرا کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور والدین سے متعلق غلط خبریں پھیلائی گئیں، سب بیٹیوں کے حوالے سے پروپیگنڈا ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مرحومہ میری بیٹیوں جیسی تھی اگر میت لاہور جائے گی تو تمام اخراجات فاؤنڈیشن برداشت کرے گی۔





