اسکینڈلز

حمیرا اصغر کی بھابھی نے گھر کے مردوں کو بے نقاب کردیا

بھابھی کے انکشافات حمیرا کی موت کو نیا موڑ دے گئے

Web Desk

حمیرا اصغر کی بھابھی نے گھر کے مردوں کو بے نقاب کردیا

بھابھی کے انکشافات حمیرا کی موت کو نیا موڑ دے گئے

حمیرا اصغر کی بھابھی نے گھریلو حالات کا پردہ فاش کردیا
حمیرا اصغر کی بھابھی نے گھریلو حالات کا پردہ فاش کردیا

پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کے بعد انکے بڑے بھائی سہیل اصغر کی اہلیہ ہما سہیل نے میڈیا سے گفتگو کر کے اہم رازوں پر سے پردہ ہٹا دیا۔

2013 میں ماڈلنگ میں انٹری کے کچھ سال بعد اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والی حمیرا اصغر نے پاکستان کے سب سے بڑے ریئیلیٹی شو 'تماشہ' میں بطور کنٹیسٹنٹ اپنی پہچان بنائی لیکن اس شو کو آن ایئر ہوئے تیسرا سال ختم بھی نہ ہوا تھا کہ اداکارہ دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔

حمیرا اصغر کی ناقابلِ شناخت لاش 8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس 6 کے ایک اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی۔

حمیرا اصغر فلیٹ میں 7 سال سے اکیلی رہ رہی تھیں، 2018 میں فلیٹ کرائے پر لیا تھا اور وہ 2024 سے کرایہ نہیں دے رہی تھیں جس کے سبب مالک مکان نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور عدالتی کارروائی کے تحت جب عدالتی بیلف فلیٹ پر پہنچا تو دروازہ نہ کھلنے کی صورت میں توڑ کر اندر گیا جہاں حمیرا اصغر کی گلی ہوئی لاش ملی۔

حمیرا اصغر کی لاش گھر سے ملنا جتنا حیران کن تھا اس سے کئی زیادہ حیران کن وہ تمام انکشافات ہیں جو پے در پے ہوئے جارہے ہیں اور روکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔

سب سے پہلے یہ انکشاف کیا گیا کہ اداکارہ کی لاش ایک مہینہ پرانی ہے لیکن اب پوسٹ مارٹم اور تفتیش سے معلوم چلا کے اداکارہ کو مرے ہوئے تقریباً نو ماہ گزر چکے ہیں۔

جہاں ایک طرف اداکارہ کی موت کی وجہ اور تاریخ کا تعین ایک نہ سلجھنے والی گتھی بن گیا ہے وہیں ان کے خاندان کی جانب سے ان کی لاش کو وصول کرنے سے انکار کرنا بھی سب کو حیران کرتا دکھا۔

والد کی جانب سے انکار کے بعد حمیرا اصغر کے بہنوئی نے کراچی پہنچ کر لاش وصول کرنی چاہی لیکن پولیس حکام نے قانون کو فالو کرتے ہوئے میت سگھے رشتے کو ہی سونپنے کا فیصلہ سنایا جس کے بعد حمیرا کے بھائی نوید کراچی پہنچے اور لاش لے لی۔

نوید اصغر نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ انہوں نے بہن سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ وہ مستقل رمضان چھیپا کے ساتھ رابطے میں تھے، خبر رساں اداروں نے جھوٹا پروپگینڈا کیا ہے۔

لیکن نوید اصغر کی باتوں کی نفی کرتی اور حمیرا اصغر کی زندگی اور موت کی کہانی کو نیا رنگ دیتی ہوئی انکی بھابھی ہمہ سہیل منظرِ عامل پر آگئیں جنہوں نے ایسے انکشافات کیے کہ سننے والے ہکّا بکّا رہ گئے۔

میڈیا چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ہما سہیل نے کہا کہ 'حمیرا اصغر گزشتہ سال اگست میں اپنے گھر روکنے آئی تھیں اور ایک مہینے کے بعد ستمبر میں واپس کراچی لوٹی تھیں، انہوں نے کراچی پہنچ کر پہلے مجھے کال کی تھی اور کہا تھا کہ میں انکو اپنے یا بھائی کے نام پر سِم کھلواکر دے دوں لیکن میں نے کہا تھا میں یہ نہیں کرسکتی، پھر انہوں نے اپنی والدہ کو کال کی تھی اور کہا تھا کہ میرے لیے دعا کیا کریں، میں بہت پریشان ہوں، پیسوں کی ضرورت ہے، یہ نمبر بند ہوجائے گا، دوسر نمبر دونگی اس پر بات ہوگی اب۔'

ہما سہیل نے انکشاف کیا کہ 'حمیرا نے جو نیا نمبر دیا تھا جب ساس کے کہنے پر اس پر رابطہ کیا تو وہ بند تھا، پرانا نمبر بھی بند تھا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رابطہ نہیں ہوپارہا تھا، میں نے ساس کو کہا کہ پولیس سے رابطہ کرتے ہیں لیکن انہوں نے منع کردیا یہ کہہ کر کہ خاندان کی بدنامی ہوگی لیکن میں نے کراچی پولیس سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے میری باتوں کو سنجیدہ نہیں لیا جس کے بعد میں خاموش ہوگئی۔'

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 'حمیرا ابھی جب والدین کے گھر آئی تھیں تو انکا بھائی نوید اصغر سے جھگڑا ہوا تھا، ان دونوں کی لڑائی ہوتی رہتی تھی، نوید کو حمیرا کا شوبز میں کام کرنا نہیں پسند تھا اور والدہ سے لڑتا تھا کہ حمیرا گھر کیوں آتی ہے ہمارے، والد کو بھی حمیرا کے شوبز میں کام کرنے پر اعتراض تھا، وہ حمیرا کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔'

ہما سہیل نے یہ بھی بتایا کہ 'انکے اپنے شوہر سہیل اصغر کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے، حمیرا ان سے کہتی تھی کہ بھابھی آپ میرے پاس کراچی میں رہنے آجائیں میں یہاں اکیلے رہتی ہوں، بھائی تو کوئی کام نہیں کرتے میں آپ اور بچوں کو رکھ لوں گی لیکن انہوں نے ہمیشہ حمیرا کو منع کردیا کیونکہ شوہر کی جانب سے اجازت نہیں تھی، وہ بھتیجے بھتیجی کیلئے پیسے بھجواتی تھی جو بھابھی کے اکاؤنٹ میں آتے تھے اور والدہ کو بھی ہر مہینے پیسے بھجواتی تھی جو کبھی 15 تو کبھی 20 ہزار ہوتے تھے۔'

ہما سہیل نے ایک اور انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 'انکے دیور نوید اصغر نے 5 مہینے قبل انہیں گھر سے نکال دیا تھا اور اس کے بعد سے ہما کا اپنے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہے، ان سے کال پر بھی بات نہیں ہوپاتی۔'

ایک اور انٹرویو میں ہما سہیل نے یہ بھی بتایا کہ 'حمیرا کی نوید اصغر سے اکثر لڑائی مال و دولت پر ہوتی تھی، وہ اکثر اپنا حق مانگتی، کبھی استعمال کرنے کا مطالبہ کرتی تھیں جس کی اجازت نوید اصغر نہیں دیتے تھے اور ان سے لڑتے تھے۔'