پاکستان

کراچی میں مکھیوں کی بہتات سے شہری پریشان

مکھیاں شہر میں کئی امراض کا باعث بن رہی ہیں

Web Desk

کراچی میں مکھیوں کی بہتات سے شہری پریشان

مکھیاں شہر میں کئی امراض کا باعث بن رہی ہیں

فائل فوٹو:گوگل
فائل فوٹو:گوگل

کراچی میں ان دنوں جہاں جائیں وہاں شہری آس پاس گھومتی مکھیوں کو اپنے اوپر سے ہٹاتے نظر آتے ہیں۔

شہر میں مکھیوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، گھروں سے لیکر عوامی مقامات پر صرف مکھیاں ہی مکھیاں نظر آتی ہیں۔

مکھیاں نہ صرف شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کررہی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کا بھی باعث بن رہی ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد اسہال اور مختلف بیماریوں کے سبب اسپتالوں کا رخ کررہی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مکھیاں آخر کہاں سے آرہی ہیں ، یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ گندگی، مکھیوں اور مچھروں کی افزائش کی سب سے بڑی وجہ ہے اور کراچی کی سڑکوں پر جمع سیوریج کا پانی مکھیوں کی افزائش کی گواہی دیتا نظر آتا ہے۔

لیکن اس کے علاوہ بھی مکھیوں کی افزائش کے دیگر عوامل بھی ہیں، جن میں مون سون کا سیزن مکھیوں کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتا ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مکھی دس لاکھ کے قریب بیکٹریا پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔

مون سون میں اکثر علاقوں میں نکاسی آب کا نظام متاثر ہوتا ہے، گندا پانی، کچرا اور بدبو دار جگہیں بھی مکھیوں کے انڈے دینے کے لیے بہترین جگہیں بن جاتی ہیں۔

گھروں میں بھنھناتی یہ مکھیاں ’ہاؤس فلائز‘ تیزی سے انڈے دیتی ہیں اور مون سون کے موسم میں نمی اور خوراک کی فراوانی کے باعث ان کی افزائش کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین بھی شہر میں مکھیوں کی بہتات پر دہائیاں دیتے نظر آئے۔


ایک صارف نے چِڑ کر کہا کہ یہ اتنی مکھیاں کہاں سے آگئی ہیں ؟


ایک اور صارف نے طنز کیا کہ کراچی میں مکھیاں ہیں یا مکھیوں میں تھوڑا کراچی ہے ؟

ایک اور صارف نے لکھا کہ جنگیں ختم ہوگئیں لیکن کراچی سے مکھیاں ختم نہ ہوسکیں۔

ایک صارف نے نشاندہی کی کہ کراچی میں مکھیاں بہت بڑھ گئی ہیں، اس لیئے حکومت فوری طور پر نوٹس لے اور اسپرے مہم کا آغاز کرے ، شہر میں صفائی کی اشد ضرورت ہے۔