انفوٹینمنٹ

کئی ماہ کا انتظار ختم، حمیرا کو بالآخر قبر نصیب ہوگئی

اداکارہ کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد ماڈل ٹاؤن قبرستان میں تدفین کردی گئی۔

Web Desk

کئی ماہ کا انتظار ختم، حمیرا کو بالآخر قبر نصیب ہوگئی

اداکارہ کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد ماڈل ٹاؤن قبرستان میں تدفین کردی گئی۔

اداکارہ کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
اداکارہ کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

کراچی کے ایک فلیٹ میں تنہائی کے عالم  میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لینے والی حمیرا اصغر علی کو کئی ماہ کے انتظار کے بعد بالآخر قبر نصیب ہوگئی۔

اداکارہ و ماڈل کی بوسیدہ لاش 8 جولائی کو اس وقت برآمد ہوئی تھی جب مالک مکان کی قانونی کارروائی پر عدالت نے فلیٹ خالی کروانے کے لیے بیلف کو وہاں بھیجا۔

مکان کا دروازہ توڑے جانے پر جو حقیقت سامنے آئی اس نے سب کو لرزا کر رکھ دیا۔

اداکارہ کی لاش اس حالت میں زمین پر پڑی پائی گئی تھی کہ آس پاس کیڑوں کا انبار تھا، جسم پر پہنے گئے کپڑے خراب حالت میں تھے۔

لاش کی یہ حالت تھی کہ جسم کا گوشت گل سڑ گیا تھا، چہرہ بالکل ناقابل شناخت تھا اور لاش کو منتقل کیے جانے کے دوران ایک ہاتھ کا پنجہ بھی جسم سے الگ ہوگیا تھا۔

ابتدا میں جہاں موت ایک ماہ پہلے ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا وہاں پھر یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا کہ وہ تو 9 سے 10 ماہ پہلے اس جہانِ فانی سے کوچ کرچکی تھی۔

کراچی کے علاقے اتحاد کمرشل کی جس عمارت میں حمیرا کا یہ فلیٹ تھا اس منزل پر ان کے علاوہ صرف ایک اور فلیٹ تھا جس کے مکین اکتوبر تا فروری وہاں موجود نہیں تھے، اس سے یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہشاید اسی وجہ لاش سے اٹھنے والا تعفن کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔

لاش برآمدگی کے بعد اگلا مرحلہ ورثا کی تلاش تھی لیکن ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے میت وصول کرنے سے انکار نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کو صدمہ پہنچایا کہ سگے رشتے اتنے سنگ دل کیسے ہوسکتے ہیں۔

چنانچہ شوبز شخصیات سمیت کئی لوگ حمیرا کی باعزت طریقے سے تدفین کرنے کے لیے سامنے آگئے، پھر یہ شاید میڈیا کا پریشر تھا یا کچھ اور جو حمیرا کے بھائی آخر کار میت لینے کراچی پہنچ ہی گئے۔

حمیرا کے بھائی نوید اصغر نے گزشتہ رات لاش وصول کی اور اسے بائی روڈ ایمبولینس کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا۔

جس کے بعد آج کئی ماہ کا عرصے گزر جانے کے بعد بالآخر حمیرا کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔

اس موقع پر ان کی رہائش گاہ سے میڈیا کو دور رکھا گیا اور میت کو سرد خانے سے براہ راست جنازہ گاہ اور پھر ماڈل ٹاؤن قبرستان لے جایا گیا۔

حمیرا کے چچا کی گفتگو

قبرستان میں موجود حمیرا کے سگے چاچا ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک بزرگ  محمد علی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’وہ 2017/ 2018 میں گھر والوں کی اجازت سے گھر سے گئی تھیں۔ خاندان نے ان سے اظہار لاتعلقی نہیں کیا تھا نہ ہی آج تک لڑائی جھگڑا ہوا۔

ان کے مطابق متوفیہ دو بہنیں اور دو بھائی ہیں، حمیرا نیک خاتون تھیں، ان کے اپنے گھر والوں سے بہت اچھے تعلقات تھے اور جائیداد کا کوئی تنازع نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’حمیرا سے صرف موبائل پہ رابطہ ہوتا تھا، وہ دو ماہ سے چھ ماہ بعد آتی تھیں اور غربا میں کپڑے اور دیگر اشیا تقسیم کرتی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھاکہ حمیرا اصغر شوبز میں کام کرنا چاہتی تھی وہاں خوش تھی لیکن حمیرا کے والدین اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔

اس سوال پر کہ دو ماہ تک ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا متوفیہ کے چچا کا کہنا تھا کہ ’رابطہ اس لیے نہیں کیا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں رہتی ہیں۔‘