ملالہ یوسفزئی کا ’ملالہ ڈے’ پر تنزانیہ کا یادگار دورہ
نوبل انعام یافتہ ملالہ نے اسپیشل پوسٹ شیئر کردی
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ’ملالہ ڈے’ پر اسپیشل پوسٹ سوشل میڈیا کی زینت بنادی جس میں انہیں تنزانیہ کے ایک ایسے اسکول کا دورہ کرتے دیکھا گیا جہاں طالب علم چھوٹے چھوٹے بچے نہیں بلکہ کم عمر مائیں ہیں جو تعلیم کی متلاشی ہیں۔
حال ہی میں ملالہ نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کی جس میں انہیں تنزانیہ کے ایک اسکول میں طالب علموں کیساتھ وقت گزارتے دیکھا گیا، اس موقع پر انہوں نے طلبہ کیساتھ مل کر کیک بھی کاٹا اور کچھ نئے پودے بھی لگائے۔
ان تصاویر اور ویڈیو پر مبنی پوسٹ کو سوشل میڈیا کی زینت بناتے ہوئے ملالہ نے کیپشن میں بتایا کہ یہ انکا تنزانیہ کا پہلا دورہ ہے۔
انہوں نے اس دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ،‘مجھے یہاں آکر بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے، جب میں پاکستان میں تھی اور اسکول میں تعلیم حاصل کررہی تھی تو کلاس روم میری پسندیدہ جگہ ہوا کرتی تھی۔‘
ملالہ نے تعلیم سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ،’تعلیم نے مجھے امید دی۔ اور جب مجھ سے تعلیم حاصل کرنے کا یہ حق چھینا گیا، تو میں نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر آواز اٹھائی تاکہ وہ حق واپس مل سکے۔‘
سماجی کارکن ملالہ نے اس یادگار دورے کو اپنے بچپن کی یادوں سے جوڑٹے ہوئے مزید لکھا کہ،‘آج میں ایک بار پھر کلاس روم میں تھی، ان بچیوں کے ساتھ، جنہوں نے مجھے اپنے اسکول کے دنوں کی یاد دلائی اور اس جدوجہد کی اہمیت بھی یاد دلائی، جو آج بھی جاری ہے۔’
انہوں نے بتایا کہ،’ہم نے ایک اسکول کا دورہ کیا، جو ہمارے پارٹنر اور ’واپس اسکول جاؤ’ نامی پروگرام کے تحت چل رہا ہے۔یہ پروگرام نوجوان ماؤں کو دوبارہ اسکول واپس جانے میں مدد دیتا ہے۔’
ملالہ یوسفزئی نے مزید بتایا کہ،‘اور اس اہم کام میں ملالہ فنڈ بھی اہم سرمایہ کاری کررہا ہے۔کیونکہ تنزانیہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں تقریباً ہر 5 میں سے 2 لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں،اور ہر 4 میں سے 1 لڑکی 19 سال سے پہلے ماں بن جاتی ہے۔
ملالہ نے اس فنڈنگ اسکول کے بارے میں مزید بتایا کہ،’اساتذہ، مشیروں، ذہنی صحت کی نگہداشت، اسکول کا سامان، اور والدین و اساتذہ سے گفتگو کے ذریعے، یہ پروگرام اب تک 400 سے زائد بچیوں کو اسکول واپس لانے میں مدد کر چکا ہے۔ اسی لیے یہ میرے لیے باعزت لمحہ تھا کہ میں اسکول کا دورہ کروں، طالبات و اساتذہ سے ملاقات کروں، اور ان کمیونٹی ممبران سے سیکھوں جو لڑکیوں کی تعلیم کو ممکن بنا رہے ہیں۔’
دوسری جانب ملالہ کی کاوشوں اور انتہک محنت کا ثبوت دیتی پوسٹ جیسے ہی سوشل میڈیا کی زینت بنی وہیں کئی نامور شخصیات سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملالہ کے اس اقدام کو بے حد سراہا گیا۔ کیونکہ یہ پوسٹ ملالہ ڈے کے اہم دن پر سامنے آئی ہے۔
یاد رہے کہ ملالہ ڈے کو اقوام متحدہ نے 12 جولائی 2013 کو باقاعدہ طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔یہ وہ دن تھا جب ملالہ یوسفزئی نے صرف 16 سال کی عمر میں اقوام متحدہ میں ایک پُراثر تقریر کی تھی،
اس تقریر میں انہوں نے تعلیم، امن، اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی یہی وجہ ہے کہ یہ دن دنیا بھر میں ہر سال تعلیم کے حق اور نوجوانوں کی قیادت کے اعتراف کے طور پر منایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ گل مکئی کے نام سے بی بی سی اردو کیلئے ڈائری لکھ کر شہرت حاصل کرنے والی ملالہ کو 2012 میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر سوات میں اسکول سے واپس آتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا، خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہیں اور تب سے بیرون ملک مقیم ہیں۔
حملے میں زندہ بچ جانے کے بعد وہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کی علمبردار بن گئیں، 2013 میں ملالہ اور ان کے والد ضیاء الدین یوسف زئی نے لڑکیوں کیلئے 'ملالہ فاؤنڈیشن' قائم کی، 10 دسمبر 2014 کو ملالہ یوسف زئی دنیا کی سب سے کم سن نوبل امن انعام جیتنے والی شخصیت بن گئی تھیں۔
ازدواجی زندگی کی بات کریں تو ملالہ یوسفزئی نے 9 نومبر 2021 کو عصر ملک سے شادی کی تھی، عصر ملک پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور دونوں کی شادی کی تقریب برمنگھم میں منعقد ہوئی تھی۔




