حمیرا کی المناک موت، طوبیٰ انوار نے اہم فیصلہ کرلیا
اداکارہ نے سب سے کنیکٹ رہنے کا حل تلاش کرلیا
حمیرہ اصغر علی کی المناک موت کے بعد شوبز کی ممتاز اداکاراؤں نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک واٹس ایپ گروپ بنانے کا اعلان کردیا جس میں وہ ایک دوسرے کی خیر خیریت سے آگاہ رہ سکیں گی۔
تحفظ سے جُڑا یہ اسٹیپ اداکاراؤں منشا پاشا ، ژالے سرحدی ، یشما گِل اور طوبیٰ انوار نے لیا ہے، اس گروپ میں شوبز سے وابستہ تمام خواتین اداکارائیں موجود ہوں گی۔
8 جولائی کو اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش انکے فلیٹ سے مسخ شدہ حالت میں برآمد ہوئی تھی، کئی مہینوں سے فلیٹ کا کرایہ ادا نہ کرنے پر جب مالک مکان کی قانونی کارروائی پر عدالت نے فلیٹ خالی کروانے کے لیے بیلف کو وہاں بھیجا تو دروازہ توڑے جانے پر جو حقیقت سامنے آئی اس نے سب کو لرزا کر رکھ دیا۔
اداکارہ کی لاش اس حالت میں زمین پر پڑی پائی گئی تھی کہ آس پاس کیڑوں کا انبار تھا، جسم پر پہنے گئے کپڑے خراب حالت میں تھے۔
لاش کی یہ حالت تھی کہ جسم کا گوشت گل سڑ گیا تھا، چہرہ بالکل ناقابل شناخت تھا اور لاش کو منتقل کیے جانے کے دوران ایک ہاتھ کا پنجہ بھی جسم سے الگ ہوگیا تھا۔
ابتدا میں جہاں موت ایک ماہ پہلے ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا وہاں پھر یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا کہ وہ تو 9 سے 10 ماہ پہلے اس جہانِ فانی سے کوچ کرچکی تھی۔
اور پھر جیسے جیسے یہ سوالات اٹھنے لگے کہ آخر اداکارہ کا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ کیوں نہ تھا وہیں اب حمیرا کی تدفین کے وقت بھائی ، بہن، بھابھی اور چچا کے بیانات نے تو جیسے کہانی کا رخ ہی موڑ دیا۔
بہرحال اس پورے سانحہ میں ایک سوال یہ بھی اٹھا کہ فیملی کو ایک سائڈ پر رکھتے ہوئے اگر شوبز کی بات کریں تو ایک معروف اداکارہ ہونے کے ناطے کیا کوئی بھی شوبز سے ایسا شخص نہ تھا جو حمیرا سے رابطے میں ہوتا؟ یا انہیں اپروچ کرتا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر اب کئی نامور شخصیات بات کرتی نظر آرہی ہیں۔
اسے میں اداکارہ طوبیٰ انوار نے حمیرا اصغر کی موت کے بعد اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ لے لیا جس کی مدد سے تمام شوبز ستارے ایک دوسرے کیساتھ جڑے رہیں گے۔
حالیہ انٹرویو میں طوبیٰ انوار کا کہنا تھا،’ہم جتنی بھی اداکارائیں ہیں ہم سب نے مل کر ایک گروپ بنایا ہے جو ابھی فی الحال واٹس ایپ تک محدود ہے’۔
اداکارہ کے مطابق اس گروپ میں میڈیا سے وابستہ تمام خواتین موجود ہیں اور اس گروپ بنانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں’۔
انہوں نے اس گروپ بنانے کے فائدے پر بات کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ،’اس گروپ میں ہفتہ وار حاظری ہوگی جس سے سب کی خیریت معلوم ہوسکے،اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس گروپ کے توسط سے ذہنی صحت کے بارے میں بھی معمولات ملتی رہے گی، کیونکہ اس گروپ میں کسی بھی قسم کی پریشانی کو بلاجھجھک دوسروں کیساتھ شیئر جاسکے گا’۔
طوبیٰ انوار بتاتی ہیں کہ،‘ میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہوں لیکن جو دوسرے شہروں سے آکر یہاں رہائش پذیر ہیں اور اپنا کرئیر بنارہی ہیں یہ گروپ بالخصوص ان خواتین کیلئے کارآمد ثابت ہوگا کیونکہ اب حمیرا اصغر کی موت کے بعد ایک دوسرے سے جڑے رہنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ طوبیٰ انوار نے اس اقدام میں پہل کرنے کیلئے ژالے سرحدی، یشما گل اور منشا پاشا کو اسکا کریڈٹ بھی دیا ہے۔
دوسری جانب طوبیٰ انوار کے اس اقدام کو سوشل میڈیا صارفین بھی بے حد سراہتے نظر آرہے ہیں، ایک صارف نے تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ،‘یہ واقعی ایک بہت اچھا قدم ہے امید ہے کہ ہر درجے کے فنکار اس گروپ میں شامل ہوں’۔
جبکہ ایک اور صارف نے گلوکارہ مومنہ مستحسن کیلئے بھی فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ،‘مومنہ کی بھی خبر لےلیں وہ بھی کافی عرصے سے سوشل میڈیا سے غائب ہیں۔‘




