پاکستان

حمیرا کی موت ’قتل‘ ہے، شہری کی عدالت میں درخواست

شاہ زیب سہیل نامی شہری نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے

Web Desk

حمیرا کی موت ’قتل‘ ہے، شہری کی عدالت میں درخواست

شاہ زیب سہیل نامی شہری نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے

حمیرا کی آخری رسومات گزشتہ روز ادا کی گئی تھیں
حمیرا کی آخری رسومات گزشتہ روز ادا کی گئی تھیں

حمیرا اصغر علی ایک کربناک موت پاکر منوں مٹی تلے آخر سو گئی لیکن اس کے نام کی بازگشت ابھی تک جاری ہے۔

حمیرا اصغر علی کی موت کو ایک معاشرتی المیہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے جس میں ایک جانی پہچانی شوبز شخصیت 8 سے 10 ماہ پہلے انتقال کرچکی لیکن اس کی موت سے سب انجان رہے۔

حیمرا اصغر علی کی موت کیسے ہوئی اس کا حتمی تعین تو مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوگا لیکن سندھ ہائی کورٹ میں ایک شہری نے حمیرا اصغر علی کی موت کو طبعی ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کردی ہے۔

شاہ زیب سہیل نامی کراچی کے شہری نے مقدمہ درج کروانے کے لیے سیشن جج جنوبی کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ حمیرا اصغر علی کی موت طبعی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے، عدالت اس معاملے پر ہرممکن قانونی اقدامات کرے۔

درخواست گزار نے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بنایا ہے، عدالت نے فریقین کو 16 جولائی کو رپورٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اداکارہ کی لاش آٹھ سے دس ماہ پرانی ہے اور تلف ہونے کے آخری مرحلے پر پہنچ چکی تھی۔ جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں پائی گئی۔ بال اور شرٹ کے ٹکڑے کیمیائی تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں،موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا بتانا تھا کہ مرحومہ نے ڈیفنس فیز 6 کا فلیٹ 20 دسمبر 2018 کو چالیس ہزار ماہانہ کرائے پر لیا تھا، کرائے کی عدم ادائیگی پر 13 جون 2021 کو اداکارہ کو فلیٹ خالی کرنے کا کہا گیا۔

حمیرا اصغر نے مالک مکان کو ایک سال پہلے گھر خالی کرنے کے حوالے سے یقین دہانی کروائی تھی، دونوں کا رابطہ ختم ہوا تو کورٹ سے رجوع کیا گیا، معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔