وائرل اسٹوریز

محمد احمد نے بھی پروڈکشن ہاؤسز کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا

محمد احمد بھی مہرین جبار کے بیان سے متفق

Web Desk

محمد احمد نے بھی پروڈکشن ہاؤسز کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا

محمد احمد بھی مہرین جبار کے بیان سے متفق

محمد احمد بھی مہرین جبار کے بیان سے متفق
محمد احمد بھی مہرین جبار کے بیان سے متفق

پاکستانی ڈراما انڈسٹری کے سینئر اداکار سید محمد احمد نے بھی معروف ہدایتکارہ و مصنفہ مہرین جبار کے پروڈکشن ہاؤسز سے متعلق بیان پراتفاق کرتے ہوئے اہم مسئلے پر آواز اٹھادی۔

چند روز قبل مہرین جبار نے پروڈکشن ہاؤسز کی جانب سے معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر کے سنگین مسئلے پر بات کی تھی جس میں انکا کہنا تھا کہ امریکا میں لاکھ برائیاں ہوں گی لیکن وہاں فنکاروں کو طے شدہ وقت پر معاوضہ مل جاتا ہے’۔

انہوں نے اسکے برعکس پاکستانی پروڈکشنز ہاؤسز پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ،’پاکستان میں پروڈکشن ہاؤسز ادائیگیوں میں بہت تاخیر کرتے ہیں، کچھ پروڈکشن ہاؤسز دوسروں سے بہتر ہیں لیکن عمومی طور پر بھکاریوں کی طرح ان کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے کہ ہمیں ہمارا معاوضہ کب ملے گا۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر پروڈکشن ہاؤس پیسے بچانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے جس کا زیادہ تر شکار وہ عملہ بنتا ہے جو تکنیکی کاموں میں معاونت کرتا ہے۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ مہرین جبار سے قبل بھی کئی اداکارئیں اور اداکار معاوضے کے مسائل پر آواز بلند کرتے سنائی دیے ہیں۔

اور اب اس بات سے اتفاق سینئر اداکار سید محمد احمد بھی کربیٹھے، انہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا جس میں  پاکستانی پروڈکشن ہاؤسز کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے لے آئے۔

ہر ڈراموں میں والد کے کردار سے مشہور اداکار سید محمد احمد کا اپنے بیان میں پروڈکشن ہاؤسز کی بدانتظامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ،’پاکستان میں چند ایک پروڈکشن ہاؤسز کو چھوڑ کر باقی سب غیر پیشہ ور ہیں۔’

انہوں نے واضح کیا کہ،‘ پراجیکٹ ختم ہونے کے تین یا چار ماہ تک ادائیگی نہیں کی جاتی اور جب ادائیگی کی جاتی ہے تو وہ بھی اس وقت جب ہم خود پروڈکشن ہاؤسز سے پیسوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

سید محمد احمد کے مطابق پیسے مانگنے پر ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے گویا وہ ہم پر کوئی بہت بڑا احسان کر رہے ہوں۔  ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بھکاری ہوں، حالانکہ ہم بھی دن رات محنت کرتے ہیں اور اس کے باوجود کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ ہمیں وقت پر ادائیگی کی جائے گی یا نہیں۔

محمد احمد صاحب کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ،’اکثر اوقات ادائیگی اس صورت ملتی ہے جب کوئی فنکار پروڈکشن ہاؤسز کے چکر لگا کر اپنی مالی مشکلات کا رونا رائے  تب جا کر اسے اُس کی اپنی کمائی دی جاتی ہے؟ کیا یہ کوئی طریقہ ہے؟’

اس پیغام کا اختتام کرتے ہوئے انہوں نے ہدایت کارہ مہرین جبار کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یہ مسئلہ اٹھایا، جو انڈسٹری کے اُن تمام افراد کا مشترکہ درد ہے جو دن رات محنت کرتے ہیں لیکن بدلے میں نہ عزت ملتی ہے اور نہ ہی وقت پر معاوضہ۔

جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بنی وہیںان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ،‘شرمناک رویہ! اداکاروں کو اپنی کمائی کے لیے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے؟’

جبکہ پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اداکار عدنان انصاری نے لکھا کہ،‘اسی وجہ سے میں نے پاکستان چھوڑ دیا۔ لوگ آج بھی مجھے لاکھوں روپے کے بقایاجات دینے ہیں جو کبھی ادا نہیں کیے گئے۔’

ایک اور نے لکھا کہ،‘کتنی شرم کی بات ہے! پروڈکشن ہاؤسز پیسے بنا رہے ہیں اور فنکار ان کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں!