ملالہ یوسفزئی نے ’تنزانیہ’ میں اپنی سالگرہ کیسے منائی؟
وہ کام کردیے جو انہوں نے سوچے بھی نہیں تھے
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے تنزانیہ میں اپنی 28ویں سالگرہ مناتے ہوئے وہ کام بھی کر ڈالے جو انکے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔
ان دنوں ملالہ ایک اہم دورے پر تنزانیہ میں موجود ہیں جہاں مخلتف سرگرمیوں کا حصہ بن کر ان جھلکیوں کو سوشل میڈیا کی زینت بھی بناتی نظر آرہے ہیں۔
حال ہی میں انہوں نے ایک فلاحی اسکول کا دورہ بھی کیا جس میں ملالہ فنڈ بھی اہم سرمایہ کاری کررہا ہے، اس اسکول میں طلبہ چھوٹے چھوٹے بچے نہیں بلکہ وہ مائیں تھیں جنکی شادی کم عمری میں کردی جاتی ہے۔
کیونکہ تنزانیہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں تقریباً ہر 5 میں سے 2 لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں،اور ہر 4 میں سے 1 لڑکی 19 سال سے پہلے ماں بن جاتی ہے۔
اس اسکول کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملالہ نے بتایا تھا کہ،‘اساتذہ، مشیروں، ذہنی صحت کی نگہداشت، اسکول کا سامان، اور والدین و اساتذہ سے گفتگو کے ذریعے، یہ پروگرام اب تک 400 سے زائد بچیوں کو اسکول واپس لانے میں مدد کر چکا ہے۔ اسی لیے یہ میرے لیے باعزت لمحہ تھا کہ میں اسکول کا دورہ کروں، طالبات و اساتذہ سے ملاقات کروں، اور ان کمیونٹی ممبران سے سیکھوں جو لڑکیوں کی تعلیم کو ممکن بنا رہے ہیں۔’
اور اب سماجی کارکن نے ایک اور پوسٹ تنزانیہ سے ہی شیئر کی جس میں انکے موج مستی بھرے لمحات ہر دیکھنے والوں کے دل چھو گئے۔
ان تصاویری کولاج میں ملالہ کے سولو پوز ، شوہر اسیر ملک کیساتھ کپل پوز، فنی ویڈیوز کلپ اور انکے والد کی جھلک بھی موجود تھی جو گاڑی میں گہری نیند سو رہے ہیں۔
ان جھلکیوں کو شیئر کرتے ہوئے ملالہ نے کیپشن میں اپنے فینز کو بتایا کہ ان میں کئی کام ایسے ہیں جو میں نے اپنی سالگرہ کے دن کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا لیکن ہوگئے، جبکہ کچھ کام ایسے ہیں جنہیں میں نے کرنے کا سوچا تھا۔
انہوں نے غیر اداری طور پر سرانجام ہوجانے والے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ۔‘ تنزانیہ میں ٹک ٹاک ٹرینڈز کی ویڈیوز بنانا، نئے دوستوں کے ساتھ مل کر آرٹ بنانا، ان شاندار خواتین سے ملاقات جو ڈیجیٹل رسائی، صنفی انصاف، اور خواتین کی آواز بلند کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں، زنزبار کی خوبصورتی کو دریافت کرنا، اور اپنے شوہر اسیر ملک کی جانب سے سرپرائزز پانا یہ سب وہ کام تھے جو میں نے سوچے بھی نہیں تھے لیکن سالگرہ کے دن کر بیٹھی۔
کیپشن جاری رکھتے ہوئے ملالہ نے مزید لکھا کہ،’اور وہ کام جو میں نے سوچا تھا کہ ہوں گے وہ سب یہ ہیں کہ میرے ابو کسی نئے ملک میں کوئی نیا کونا ڈھونڈ کر وہاں آرام سے نیند لے رہے ہوں گے ، ایک اور سالگرہ ایسی حیرت انگیز لڑکیوں اور تعلیمی رہنماؤں کے ساتھ منانا، وہ بھی ایک نئے ملک میں واقعی ایک شکر گزار لمحہ ہے۔ ’
گل مکئی کے نام سے بی بی سی اردو کیلئے ڈائری لکھ کر شہرت حاصل کرنے والی ملالہ نے اختتام میں تنزانیہ کے دورے پر خوشی کا اظہار بھی کیا اور لکھا کہ،‘تنزانیہ، تم نے میرا دل جیت لیا، ہم نے مل کر جو آرٹ کا ٹکڑا تخلیق کیا، وہ صرف ایک فن پارہ نہیں ہے، بلکہ وہ ہمت اور امید کی عکاسی کرتا ہے جو میں نے یہاں ہر لڑکی کی آنکھوں میں دیکھی۔’
انکا کہنا تھا کہ،‘دنیا بھر میں نوجوان لڑکیاں سیکھنے اور قیادت کرنے کے مواقع کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، اور وہ ہماری مکمل سپورٹ کی حقدار ہیں۔اور ان سب کا بھی شکریہ جو میرے ساتھ اس دن کو خاص بنانے میں شریک ہوئے’۔
دوسری جانب ملالہ کی پوسٹ دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین سمیت کئی نامور شخصیات نے انہیں سالگرہ کی مبارکباد بھی دی۔
اور ساتھ ہی کمنٹ سیکشن میں بے شمار تعریفی تبصرے بھی کرتے دکھائی دیے۔



