بچوں کو بزنس کلاس میں سفر نہ کروانے کا بیان دینا ندا کو مہنگا پڑگیا
سوشل میڈیا پر صارفین انہیں ٹرول کرتے نظر آرہے ہیں
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی اداکارہ اور نامور ٹیلی ویژن ہوسٹ ندا یاسر کا بزنس اور اکنامی کلاس میں سفر کرنے کا بیان دینا انہیں تنقید کی ذد میں لے آیا۔
ندا ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے پہلے تو اداکاری کی دنیا میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن پھر ہوسٹنگ کا ایسا جنون ان پر طاری ہوا کہ کئی سال گزرنے کے بعد بھی آج ندا مارننگ شو کی ہوسٹنگ سے داد وصول کرتی نظر آتی ہیں۔
ندا یاسر نے ہوسٹنگ کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل اپنے دیور دانش نواز اور شوہر یاسر کے ساتھ سٹ کام ’نادانیاں‘ میں بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔
انہوں نے سال 2002 میں اداکار، پروڈیوسر و ہدایتکار یاسر نواز سے پسند کی شادی کی تھی جن سے انکے دو بیٹے فرید، بالاج اور ایک بیٹی صلہ ہیں۔
اور اب ان دنوں وہ اپنی فیملی کے ہمراہ بیرون ملک موجود اپنی چھٹیاں یادگار بناتی نظر آرہی ہیں اور ساتھ ہی دلکش تصاویر بھی فینز کیساتھ شیئر کررہی ہیں۔
تاہم حال ہی میں انکا ایک ایسا بیان سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا جو انہیں نہ صرف تنقید کی ذد میں لے آیا بلکہ انکے نظریے پر کئی لوگ سوال کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ ندا یاسر کا یہ انٹرویو کوئی نیا نہیں بلکہ سال پہلے ریکارڈ ہوا تھا جسکا ایک کلپ اب توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔
یہ کلپ فٹ پرنٹ پوڈکاسٹ کے سیزن 2 کی ساتھویں قسط سے وائرل ہوا ہے جس کی میزبانی اداکارہ حنا الطاف اور سید علی کررہے ہیں۔
دوران گفتگو ندا یاسر کا کہنا تھا کہ،‘میں بہت زیادہ سفر کرتی ہوں، اسی لیے مجھے بزنس کلاس کی ڈیلز اور ڈسکاؤنٹس مل جاتے ہیں۔’
ندا بتاتی ہیں کہ،’ جب بھی مجھے اور یاسر کو کوئی اچھا پیکیج ملتا ہے، ہم اسے حاصل کر لیتے ہیں لیکن میں اپنے بچوں کو بزنس کلاس کے ٹکٹ نہیں لینے دیتی وہ اکنامی میں ہی سفر کرتے ہیں۔’
انہوں نے یہ بات واضح کردی کہ،’میں اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات پہلے ہی ڈال چکی ہوں کہ جب وہ خود کمانا شروع کریں گے تو بزنس کلاس کی سہولتوں کا لطف اٹھائیں۔ لیکن ابھی فی الحال انہیں اکنامی میں ہی سفر کرنا ہوگا۔
حالانکہ دیکھا جائے تو ندا کے ان الفاظ میں کوئی غلط بات نہیں تھی لیکن سوشل میڈیا صارفین کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتےتنقید کا طوفان برپا ہو گیا۔ کئی صارفین نے اسے امتیازی سوچ قرار دیا اور ندا یاسر کی ماں ہونے کی حیثیت سے ان کے رویے پر سوالات اٹھائے۔
ایک صارف نے لکھا کہ،‘’بزنس کلاس کیوں نہیں؟ کیا بچے کہیں اور سے لیے ہیں؟’
دوسرے نے طنزیہ تبصرہ کیا کہ،‘اگر آپ کے بچوں کو فائدہ ہی نہیں ملنا، تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟ بچوں کو گھر میں رکھنے کا کیا فائدہ؟ کسی جھونپڑی میں چھوڑ آئیں اور کہیں کہ میں محل بنا رہی ہوں’۔
ایک خاتون صارف نے کہا کہ،’بہت عجیب سوچ ہے۔ ایک ماں ہوتے ہوئے میں کبھی خود کے لیے بہتر چیز کا انتخاب نہیں کروں گی۔ بچے ماں باپ کی ذمہ داری ہوتے ہیں وہ بہترین کے مستحق ہیں۔ سیر سپاٹے کا وقت خاندان کے لیے ہوتا ہے، سب کو اکٹھے سفر کرنا چاہیے، نہ کہ ایک جہاز میں بھی الگ الگ۔’
ایک فین نے مشورہ دیا کہ،’آپ بچوں کو سبق ضرور سکھائیں، لیکن سہولت بھی فراہم کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گی تو وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کریں گے اور آہستہ آہستہ آپ سے دور ہو سکتے ہیں۔’
ایک اور صارف نے کہاکہ،’پاکستانی سیلیبریٹیز کو بزنس کلاس سے اتنی محبت کیوں ہے؟ اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ ذاتی زندگی کو ہر بار شیئر کرنا ضروری ہے؟’



