خواتین

سینئر صحافی جسمین منظور پر سابق شوہر کا بیہمانہ تشدد

یہ تشدد زدہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ میں خود ہوں

Web Desk

سینئر صحافی جسمین منظور پر سابق شوہر کا بیہمانہ تشدد

یہ تشدد زدہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ میں خود ہوں

یہ تشدد زدہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ میں خود ہوں
یہ تشدد زدہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ میں خود ہوں

سینئر صحافی اور اینکر  پرسن جسمین منظور سابقہ شوہر کے ہاتھوں بیہمانہ تشدد کا نشانہ بن گئیں۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی خواتین کہیں محفوظ نہیں، گھر ہو یا باہر انہیں کسی نہ کسی طرح ہراسانی اور تشدد کا نشانہ بنادیا جاتا ہے ، ایسا ہی کچھ سینئر صحافی جیسمین منظور کیساتھ بھی ہوا جس نے گھریلو تشدد جیسے حساس مسئلے پر ایک بار پھر سب کی توجہ مبذول کرالی۔

بدھ کے روز جیسمین نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس پر اپنی تشدد زدہ تصاویر شیئر کی جس میں انہوں نے سابق شوہر کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے کا انکشاف کرکے سب کی توجہ سمیٹ لی۔

صحافی کی جانب سے شیئر کردہ تصاویر میں جسمین کی آنکھوں کے گرد نیل، سوجن، اور چہرے پر واضح چوٹوں کے نشانات موجود ہیں، جو گھریلو تشدد کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سابق شوہر کی جانب سے بیہمانہ تشدد کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے جسمین منظور نے دل دہلا دینے والا بیان بھی لکھا جس میں انہوں نے بتایا کہ،‘یہ میں ہوں۔ ہاں، یہ میری کہانی ہے ،میری زندگی ایک ظالم انسان نے تباہ کر دی اور میں اپنا انصاف اپنے اللہ پر چھوڑتی ہوں۔’

انہوں نے اس انکشاف اور واضح ثبوت کے بعد متعدد پوسٹس بھی شیئر کیں جس میں جسمین نے مزید لکھا تھا کہ،‘یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی محفوظ نہیں، یہاں تک کہ اپنے گھر کی حفاظت میں بھی نہیں۔ سب سے خطرناک لوگ وہی ہوتے ہیں جن پر آپ آنکھیں بند کر کے بھروسا کرتے ہیں۔’

جسمین منظور نے اگرچہ اپنے سابق شوہر کا نام براہِ راست نہیں لیا، لیکن اپنے الفاظ سے واضح کر دیا کہ وہ کس کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ،’یہ میں ہوں، یہ تحفہ ہے میرے سابق شوہر کا ہے’۔

ٹی وی میزبان نے لکھا کہ ان پر بدترین تشدد کرنے کے باوجود ان کے سابق شوہر جناح ہسپتال میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹس میں بتایا کہ انہیں ایسے وقت میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جب وہ پہلے ہی مشکل وقت گزر رہی تھیں، ان کی والدہ انتقال کر گئی تھیں۔

انہوں نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ،’میں بہت دیر تک سوچتی رہی کہ کیا مجھے یہ سب عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے یا نہیں۔ لیکن میں یہ ہمت دکھانا چاہتی ہوں، تاکہ ہم سب مل کر اس قسم کے رویے کے خلاف کھڑے ہوں، اور حکومت کی آنکھیں کھلیں۔’

جسمین منظور کی جانب سے اس تہلکہ خیز انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا طوفان برپا ہوگیا  اور ہزاروں صارفین نے ان کے لیے حمایت اور ہمدردی کا اظہار  بھی کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ،‘آپ کو سلام۔ خواتین کو ہر حال میں تشدد کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے، چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کہیں بھی ہو۔ یہ واقعی ہمت کا کام ہے۔’

ایک اور صارف کا کہنا تھاکہ،’آپ نے بالکل ٹھیک کیا کہ سچ شیئر کیا۔ ایسے درندے معاف یا نظر انداز نہیں کیے جا سکتے، ان کو بے نقاب کرنا ہی سب سے بہتر ہے۔’

ایک اور سوشل صارف نے لکھا کہ،‘اگر آپ جیسی باوقار خاتون کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، تو عام لڑکیوں کے ساتھ یہ درندے کیا کچھ نہ کریں گے!’

یاد رہے کہ جسمین سے قبل  ٹی وی میزبان عائشہ جہانزیب نے بھی کچھ عرصہ قبل شوہر کی جانب سے بدترین تشدد کے دعوے کیے تھے، جس کے بعد ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے شوہر کو معاف کردیا تھا۔