کھیل

ویرات کے نمبر 18 کی اصل کہانی جانیے

نمبر 18 – صرف ایک نمبر نہیں، ویرات کی کہانی ہے

Web Desk

ویرات کے نمبر 18 کی اصل کہانی جانیے

نمبر 18 – صرف ایک نمبر نہیں، ویرات کی کہانی ہے

ویرات کوہلی کے فینز انہیں بطور بیٹر دیکھتے ہیں
ویرات کوہلی کے فینز انہیں بطور بیٹر دیکھتے ہیں

جب بھی ویرات کوہلی میدان میں اترتے ہیں، ایک چیز ہے جو ہر فین کی نظر فوراً پکڑ لیتی ہے اُنکی جرسی پر چمکتا ہوا ’18‘ کا نمبر۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں، یہ نمبر صرف ایک اتفاق نہیں  بلکہ ایک دردناک یاد، ایک نئی شروعات، اور مسلسل جدوجہد کی نشانی ہے؟

ویرات کوہلی کے فینز انہیں بطور بیٹر دیکھتے ہیں، لیکن خود کوہلی کے لیے یہ جرسی شاید ایک زندہ خراج ہے۔ وہ 18 نمبر جو نہ صرف اُس کی کمر پر لکھا ہوتا ہے، بلکہ اُس کے دل پر بھی نقش ہے۔

18 دسمبر 2006 یہ وہ دن تھا جب ویرات کوہلی کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ صرف 18 سال کی عمر میں اُس کے والد پریم کوہلی حرکت قلب بند ہونے کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئے۔

لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ اگلی ہی صبح کوہلی رانجی ٹرافی کا میچ کھیلنے میدان میں اترے اور 90 رنز بنائے  بغیر کسی شکایت کے، بغیر کسی بریک کے۔

اسی دن سے 18 کا نمبر صرف ایک ہندسہ نہیں رہا، یہ خود سے، اپنے والد سے، اور اپنے خوابوں سے  ایک وعدہ بن گیا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ 18 نمبر کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا۔ ویرات کوہلی نے 18 اگست 2008 کو انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔ لیکن کرکٹ نے کئی بار اُسے اسی نمبر کی طرف پلٹایا۔

ویرات کوہلی نے یہ نمبر سوچ سمجھ کر نہیں چُنا تھا، لیکن زندگی نے جیسے یہ نمبر ان پر تھوپ دیا  اور وقت کے ساتھ یہ ان کی پہچان بن گیا۔ آج وہ جہاں بھی جاتے ہیں، 18 ان کے ساتھ ہوتا ہے۔

انکا ریسٹورنٹ ہے ون ایٹ کمیون،گاڑی کی نمبر پلیٹ پر بھی 18 ہے،یہاں تک کہ انکے کپڑوں کے برانڈ، انکی لائف اسٹائل میں بھی یہ نمبر چھایا ہوا ہے۔

 تو اگلی بار جب آپ ویرات کوہلی کو نمبر 18 کی جرسی میں دیکھیں، یاد رکھیے، یہ صرف ایک جرسی نہیں، یہ ایک داستان ہے — ایک بیٹے کی اپنے والد کے لیے، ایک کھلاڑی کی اپنی لگن کے لیے،اور ایک انسان کی اُس لمحے سے جیت کے لیے جو سب کچھ چھین کر گیا تھا۔