وزیراعظم بھی 'کانٹینٹ کریئیٹر طلحہ احمد' کے گرویدہ
طلحہ احمد نے شہباز شریف سے آج ہفتہ کے روز وزیراعظم آفس میں ملاقات کی
سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والے معروف کانٹینٹ کریئیٹر طلحہ احمد نے عوام سے بےپناہ پذیرائی حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا۔
نوجوان اور باصلاحیت ڈیجیٹل کانٹینٹ کریٹر طلحہ احمد نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے آج ہفتہ کے روز ملاقات کی۔
ملاقات وزیراعظم آفس میں ہوئی جس میں شہباز شریف نے طلحہ احمد کی تخلیقی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کامیابی کو سراہا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا وِنگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے طلحہ احمد کو ان کی کامیاب ڈیجیٹل کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے کام کو نوجوان نسل کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔
وزیراعظم نے طلحہ احمد کو ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ اور ایک الیکٹرانک ٹیبلٹ بھی دیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے نہ صرف نوجوان بلکہ بچے بھی دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں اور طلحہ احمد اس کی ایک روشن مثال ہیں۔
طلحہ احمد نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حوصلہ افزائی نوجوانوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔
کون طلحہ؟
واضح رہے کہ طلحہ احمد پاکستان کے مقبول ترین کم عمر ڈیجیٹل کونٹینٹ کریئیٹرز میں سے ایک ہیں جنہوں نے کم عمری میں ہی یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی معیاری اور مثبت ویڈیوز کے ذریعے لاکھوں دل جیت لیے۔
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے طلحہ احمد نامی اس نوجوان کی عمر محض 16 برس ہے جو بغیر کسی پروفیشنل کیمرے یا آلات کے صرف ہاتھ میں موبائل فون پر پکڑ کر ایسا کانٹینٹ کری ایٹ کررہا ہے جو ہر خاص و عام کو پسند آرہا ہے۔
سوشل میڈیا پر حالیہ کچھ ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد طلحہ خوب چرچوں میں آگئے ہیں ساتھ ساتھ ہی ساتھ بھرپور تعریفیں بھی سمیٹ رہے ہیں۔
خاص طور پر ان کی ویڈیوز میں روزمرہ زندگی کی حقیقت سے قریب عکاسی کے ساتھ بہترین اداکاری اور اچھی اردو میں لکھے گئے مکالمے دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔
بہت سادہ انداز میں بنائی گئیں طلحہ کی متعدد ویڈیوز کئی ملین ویوز حاصل کر کے سوشل میڈیا پر خوب ٹرینڈ کررہی ہیں۔
وہ تھیلیسیمیا کے شکار ہیں، یہ ایک جینیاتی خون کی خرابی ہے جس کے شکار بچوں کو بچپن سے ہی باقاعدگی سےخون کی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم اس موذی بیماری کو انہوں نے اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا، طلحہ کا کہنا ہے کہ آج الحمد للہ میرا کام میری پہچان ہے، میری بیماری میرا حوالہ نہیں ہے۔


