عالمی منظر

سعودی عرب کے 'سلیپنگ پرنس' کا 20 سال کوما میں رہنے کے بعد انتقال

شہزادہ الولید بن الخالد بن طلال 2005 میں خوفناک حادثے کا شکار ہوئے تھے

Web Desk

سعودی عرب کے 'سلیپنگ پرنس' کا 20 سال کوما میں رہنے کے بعد انتقال

شہزادہ الولید بن الخالد بن طلال 2005 میں خوفناک حادثے کا شکار ہوئے تھے

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

لندن میں ایک ہولناک کار حادثے کے بعد 2 دہائیوں تک کوما میں رہنے والا سعودی شہزادہ 36 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔

سعودی شہزادے خالد بن طلال نے 'سلیپنگ پرنس' کے نام سے مشہور اپنے بیٹے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال کے انتقال کی تصدیق اپنے 'ایکس' اکاؤنٹ پر کی، جو گذشتہ تقریباً 20 برس سے کوما میں تھا۔

انہوں نے قرآن کی آیت کے ساتھ لکھا کہ ’ایمان والے دلوں کے ساتھ، اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر یقین رکھتے ہوئے، انتہائی رنج و غم کے ساتھ ہم اپنے عزیز بیٹے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال بن عبدالعزیز آل سعود کے انتقال پر سوگوار ہیں، اللہ ان پر رحم فرمائے، جو آج وفات پا گئے‘۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہی کورٹ سے جاری بیان میں بھی شہزادہ الولید بن الخالد بن طلال بن عبدالعزیز کے انتقال کا اعلان کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شہزادہ الولید کی نماز جنازہ دارالحکومت ریاض میں 20 جولائی کو بعد نماز عصر امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادہ الولید بن خالد آل سعود کو 2005 میں صرف 15 سال کی عمر میں پیش آنے والے حادثے میں دماغی رگ پھٹنے (برین ہیمرج) اور اندرونی خون بہنے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خوفناک حادثے کے بعد الولید بن خالد کو ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا، مگر وہ کبھی مکمل ہوش میں نہ آسکے۔

شہزادہ الولید 2005 میں لندن کے ایک ملٹری کالج میں تعلیم حاصل کر رہے تھے جب وہ اس ہولناک حادثے کا شکار ہوئے تھے۔

حادثے کے بعد انہیں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی منتقل کیا گیا، جہاں وہ مسلسل کوما کی حالت میں رہے۔

شہزادہ الولید کے والد نے کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑا کہ ان کا بیٹا ایک دن مکمل صحت یاب ہو جائے گا، وہ شہزادے کی دیکھ بھال میں مستقل طور پر شامل رہے اور لائف سپورٹ ہٹانے کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے رہے۔

اس عرصے کے دوران انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا اور کبھی کبھار معمولی جسمانی حرکات دیکھنے میں آئیں مگر وہ کبھی مکمل طور پر ہوش میں نہ آ سکے۔

شہزادے کے انتقال کی خبر کے بعد ’سلیپنگ پرنس‘ کا ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا، اور ہزاروں افراد نے افسوس اور اظہارِ تعزیت کی۔