پاکستان

غیرت کے نام پر قتل کی انسانیت سوز ویڈیو پر کہرام بپا

بلوچستان میں پیش آئے واقعے کے بعد 11 افراد گرفتار

Web Desk

غیرت کے نام پر قتل کی انسانیت سوز ویڈیو پر کہرام بپا

بلوچستان میں پیش آئے واقعے کے بعد 11 افراد گرفتار

غیرت کے نام پر قتل کی انسانیت سوز ویڈیو پر کہرام بپا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے انسانیت سوز واقعے کی ویڈیو نے انٹرنیٹ پر غم و غصے کی شدید لہر کو جنم دیا ہے جس کے بعد حکام نے واقعے میں ملوث 11 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

 20 سے زائد مسلح افراد نے جوڑے کو ویران پہاڑی علاقے میں لے جاکر بے دردی سے قتل کردیا تھا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے جسکے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ کے تھانہ ہنہ سے 40 سے 45 کلومیٹر دور سنجیدی ڈیگار نامی علاقے میں پیش آیا، مقدمے میں 15 افراد کو  نامزد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر خاتون اور مرد کے قتل کی وائرل ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ عید سے چند روز قبل کی ہے اور اب تک 11 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ویڈیو میں کیا ہوا؟

ویڈیو میں سامنے آنے والے تمام افراد کوئٹہ اور مستونگ کے علاقوں میں بولے جانے والے لہجے میں براہوی زبان میں بات کرتے نظر آئے۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس ویڈیو کو سیکڑوں مرتبہ شیئر کیا گیا اور اسے لاکھوں مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

ویڈیو بظاہر کسی پہاڑی مقام پر بنائی گئی ہے جہاں کچی سڑک کے اردگرد ویرانہ ہے، شروعات میں متعدد ویگو ڈالے اور جیپیں دیکھی جا سکتی ہیں جن کے باہر دن کی روشنی میں کئی افراد موجود ہیں۔

بظاہر یہ افراد سرخ لباس اور گندمی چادر میں ملبوس ایک خاتون کو گاڑیوں سے کچھ دور کھڑا ہونے کا کہتے ہیں، اس دوران خاتون براہوی زبان میں کہتی ہیں کہ ’صرف گولی کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘

جس کے بعد وہاں پر موجود مرد یہ کہتے ہیں کہ ہاں صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔

اس مکالمے کے بعد وہاں پر موجود مرد یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ’قرآن مجید ان کے ہاتھ سے لے لو‘۔ یہ واضح نہیں ہے کہ قرآن خاتون کے ہاتھ میں تھا یا مرد کے جبکہ اس کے ساتھ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’خاموشی خاموشی۔‘ اس کے ساتھ ایک مرد گالیاں بھی دیتا سنائی دیتا ہے۔

خاتون اس کے بعد کوئی مزاحمت نہیں کرتیں بلکہ خاموشی سے گاڑیوں سے دور کھڑی ہو جاتی ہیں۔

اس بات چیت کے بعد ویڈیو میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا جاتی ہے جبکہ اس کے بعد ایک، ایک کر کے چند گولیاں چلائی جاتی ہیں۔

ویڈیو میں یہ معلوم نہیں ہو رہا ہے کہ پہلے مرد کو گولی ماری گئی یا خاتون کو تاہم پہلے مرحلے کی گولیاں چلانے کے بعد یہ آواز سنائی دی جاتی ہے کہ 'اُس کو مار دو'، جس پر بہت زیادہ گولیاں چلانے کی آواز آتی ہے۔

اس دوران ایک شخص کسی ویڈیو بنانے والے پر ناراضگی کا اظہار بھی کرتا سنائی دیتا ہے جس کے بعد خاتون پر کوئی شخص دوبارہ چند گولیاں چلاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر کہرام

مذکورہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے جرگے کی جانب سے انسانیت سوز عمل کی شدید مذمت کی اور حکام سے قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی  کا مطالبہ کیا۔

علاوہ ازیں بڑی تعداد میں صارفین نے پسند کی شادی پر قتل کی سزا سنائے جانے پر قبائلی رسوم و رواج کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

مقدمہ کا متن

پولیس کے مطابق سوشل میڈیا کی وائرل ویڈیو کو دیکھنے کے بعد پولیس کی ٹیم کو واقعے کی تصدیق کے لیے متعلقہ علاقے میں بھجوایا۔

پولیس کے مطابق مخبر نے پولیس ٹیم کو بتایا ہے کہ ’یہ واقعہ عید الضحیٰ سے تین روز قبل سنجیدی ڈیگاری علاقے میں پیش آیا ہے۔‘

بتایا گیا ہے کہ ’مقتولین بانو بی بی اور احسان اللہ کو سردار کے پاس فیصلے کے لیے لایا گیا اور پندرہ افراد 3 گاڑیوں میں انہیں لے کر وہاں پہنچے۔‘

مقدمے کے مطابق سردار نے ’فیصلے میں کہا کہ بانو بی بی اور احسان اللہ کاروکاری کے مرتکب ہوئے ہیں، ساتھ ہی انہیں قتل کرنے کا فیصلہ سنایا اور 15 افراد جن میں سے دو نامعلوم ہیں نے ملکر آتشیں اسلحے سے سنجیدی میدانی میں بانو بی بی اور احسان اللہ کو کارکاری کے الزام میں قتل کر دیا۔ ‘

پولیس ایف آئی آر کے مطابق ان افراد نے مقتولین کی ویڈیو بھی ساتھ ساتھ بنائی اور ’واقعے کے 35 دن بعد اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔‘