غیرت کے نام پر دہرا قتل، شوبز شخصیات کا اظہار افسوس
مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، وزیراعلیٰ بلوچستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں غیرت کے نام پر دہرے قتل کے انسانیت سوز واقعے کی ویڈیو نے کہرام برپا کردیا ہے جس پر عوام کے علاوہ شوبز شخصیات بھی غم و غصے کا اظہار کررہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں عیدالاضحیٰ سے 3 روز قبل 20 سے زائد مسلح افراد نے ایک مرد اور ایک عورت کو ویران پہاڑی علاقے میں لے جاکر بے دردی سے قتل کردیا تھا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔
پولیس نے دونوں کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم بشیر احمد سمیت 20 افراد کو گرفتار کرلیا ہے، گرفتار ملزمان میں ستکزئی قبیلے کے سربراہ شیرباز ستکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظ بھی شامل ہیں۔
افسوسناک واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے، عدالت نے شیرباز ستکزئی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے جرگے کی جانب سے انسانیت سوز عمل کی شدید مذمت کی اور حکام سے قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
شوبز شخصیات کا اظہارِ مذمت
افسوسناک واقعے پر مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور شوبز شخصیات بھی اس واقعے پر انتہائی افسردہ ہیں۔
معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے معاشرے کا دوغلا پن عیاں کرتے ہوئے لکھا کہ 'اگر عورتیں غیرت کے نام پر قتل شروع کردیں تو معاشرے میں ایک مرد بھی نہ بچے'۔
نامور گلوکار و اداکارہ حدیقہ کیانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 'ہر دن ایک نئی کہانی ہوتی ہے، ایک اور سانحہ، ایک اور ناانصافی، ہم ان واقعات کے گواہ بنتے ہیں اور ان کا بوجھ دلوں میں لیے پھرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ایک دن یہ سب ختم ہو جائے گا'۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 'غیرت کے نام پر خواتین کو بے دردی اور سفاکی سے قتل کیا جا رہا ہے، بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ بےانتہا جہالت اور ریاستی اداروں کی ناکامی کی علامت ہے جو اپنے شہریوں کو برابری سے تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 'ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اب بھی اندھیرے کے اُس دور میں قید ہیں جہاں روایت کو ہتھیار بنایا جاتا ہے اور خاموشی کو خوف کے ذریعے مسلط کیا جاتا ہے'۔
اداکارہ منال خان نے لکھا کہ 'پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو بلوچستان میں بےرحمانہ طریقے سے غیرت کے نام پر قتل کیے جانے پر دل زخمی اور شدید غصہ ہے'۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ زمانہ جاہلیت جیسی بربریت کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں، خاص طور پر ایک ایسی دنیا میں جو انصاف اور انسانی عظمت کے لیے کوشاں ہے۔
اداکارہ حرا خان نے انسٹاگرام پر لکھا کہ امید ہے کہ جن لوگوں نے یہ قتل اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا ہے، ان کے پاس خدا کے سامنے سوال و جواب کے وقت کے لیے جواب تیار ہوگا، خدا کرے کہ تم سب جہنم میں جاؤ۔
انہوں نے لکھا کہ وہ اب اچھی جگہ پر ہے اور ساتھ ہی اس لڑکی کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی۔
اداکار و میزبان مشی خان نے اس واقعے پر ایک ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا کہ اتنا دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو نام نہاد غیرتمند مردوں نے قتل کر دیا، یہ کس جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں آئے روز ایسے دلخراش واقعات ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کا قانون درست نہیں، ہر ادارہ کرپشن میں ملوث ہے، کیا جرم تھا ان کا؟ صرف پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے انہیں قتل کر دیا گیا۔
سینئر اداکار نعمان اعجاز نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ خواتین کو تو جنگ میں مارنے کی بھی اجازت نہیں اور لوگ انہیں محبت کرنے کے جرم میں مار رہے ہیں۔
مقتولین میاں بیوی نہیں تھے، وزیراعلیٰ بلوچستان
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا ہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے میں قتل ہونے والے مرد و عورت کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی ہیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبے میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا کہ واقعے میں جو بھی ملزمان ملوث ہیں، انہیں گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہو رہا ہے اور لوگ اس کی اصل حقیقت جاننا چاہتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ مقتولین نیا شادی شدہ جوڑا تھے، لیکن وہ سب کو یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دونوں کا آپس میں کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، واقعے میں جس خاتون کا قتل ہوا، اس کے 5 بچے ہیں اور اس کے شوہر کا نام نور ہے، جب کہ مقتول مرد بھی پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کے 6 بچے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کا دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں تحقیق کے بغیر خبریں پھیل جاتی ہیں اور ان کے خیال میں کسی بھی خبر کو جاننے کے بعد اس کی تحقیق ضرور کرنی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں آج بھی جرگہ سسٹم قائم ہے اور کہیں نہ کہیں ہم سب اس نظام کے اثر میں آرہے ہیں، مگر حکومت آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان جرگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔



