فلم / ٹی وی

ڈیبیو اداکاروں کی سب سے کامیاب ہندی فلم کونسی؟

50 سال پرانی اس فلم کا ریکارڈ آج تک کوئی نہ توڑ سکا۔

Web Desk

ڈیبیو اداکاروں کی سب سے کامیاب ہندی فلم کونسی؟

50 سال پرانی اس فلم کا ریکارڈ آج تک کوئی نہ توڑ سکا۔

ڈیبیو اداکاروں کی سب سے کامیاب ہندی فلم کونسی؟

فلم 'سیارا' کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئے صرف 4 دن ہوئے ہیں لیکن موہت سوری کی ہدایتکاری میں بننے والی یہ فلم باکس آفس پر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔

فلم میں مرکزی کردار اہان پانڈے اور انیت پڈا نے ادا کیا ہے، اور اس نے اپنے ابتدائی ویک اینڈ میں صرف ہندوستان میں 85 کروڑ کی کمائی کرلی ہے، جو کسی بھی ڈیبیو کرنے والی ہندوستانی فلم کے لیے سب سے زیادہ ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ فلم سینما میں اپنی نمائش کے ختم ہونے تک لیڈ کرداروں میں ڈیبیو اداکاروں کی فلم کی حیثیت سے ایک نیا ریکارڈ قائم کردے گی۔

اگر افراط زر کے لیے ایڈجسٹ کیا جائے، یا اس وقت کے سینما دیکھنے والوں کی تعداد کو مدِ نظر رکھا جائے تو ایک 50 سال پرانی فلم آج بھی راج کرتی نظر آئے گی۔

راج کپور کی فلم بوبی، جس کے ذریعے 1973 میں رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ کو لانچ کیا گیا تھا، دونوں اداکاروں کو راتوں رات اسٹار بنا گئی تھی یہ آج بھی نووارد اداکاروں کی سب سے کامیاب فلم گردانی جاتی ہے۔

یہ فلم اُس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندوستانی فلم تھی، جس نے یک کروڑ کے بجٹ پر صرف مقامی مارکیٹ سے ہی 11 کروڑ روپے کمالیے تھے۔

سنیما انڈسٹری ان انڈیا: پرائسنگ اینڈ ٹیکسیشن کتاب کے مطابق، بوبی کو صرف بھارت میں 5.35 کروڑ افراد نے سینما میں دیکھا اگر فلم کی کمائی کو آج کی افراط زر کے حساب سے دیکھا جائے تو بھارت میں اس کی کمائی ایک ہزار کروڑ روپے کے قریب ہوگی۔

اس کے مقابلے میں، کہو نا پیار ہے، جس نے ریتیک روشن اور امیشا پٹیل کو لانچ کیا تھا، اسے بھارت میں 3 کروڑ افراد نے سینما میں دیکھا تھا، اس کی افراط زر سے ایڈجسٹ شدہ ملکی کلیکشن آج تقریباً 600 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب سیارا تمام تر کامیابیوں کے باوجود اب تک بھارت میں 50 لاکھ افراد کو سینما گھروں میں راغب کرنے میں کامیاب رہی ہے، یہی سلسلہ جاری رہا تو امکان ہے کہ یہ 2 کروڑ شائقین حاصل کرلے گی لیکن 3 کروڑ تک پہنچنا شکل ہوسکتا ہے تاہم کورونا کے بعد کے دور میں یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہوگی ۔

بوبی نے سوویت یونین میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی تھی، وہاں فل کے 62.6 ملین ٹکٹ فروخت ہوئے جس سے 15.65 ملین روبل کمائی ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ یہ فلم جنوب مشرقی ایشیائی ممالک جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور میں بھی زبردست کامیاب رہی، جہاں سب ٹائٹلز نہ ہونے کے باوجود غیر ہندوستانی ناظرین نے بھی اسے دیکھا۔

افرطاط زر کو ایڈجسٹ کیا جائے تو بیرونِ ملک بوبی کی کمائی کا تخمینہ 600 سے 800 کروڑ روپے رہا ہوگا، اور آج تک کوئی بھی ایسی فلم جس میں نوآموز اداکار مرکزی کرداروں میں ہوں، بین الاقوامی سطح پر یہ اعداد و شمار حاصل نہیں کر سکی۔

بوبی کی ہندوستان میں باکس آفس پر 11 کروڑ روپے کی کمائی غیر معمولی تھی، تاہم 2 سال بعد شعلے نے اسے پیچھے چھوڑ دیا اور 15 کروڑ روپے کمائے۔

اس کا بیرون ملک کمائی کا ریکارڈ ایک دہائی بعد ڈسکو ڈانسر نے توڑا لیکن اگر آج کل کی افراط زر کے حساب سے دیکھا جائے تو بوبی کی مجموعی کمائی آج کے دور میں 1600 سے 1800 کروڑ روپے بنتی ہے۔

یہ کمائی حالیہ دور کی کئی بڑی پین انڈیا فلموں جیسے آر آر آر، کالکی 2898 اے ڈی اور جوان سے بھی زیادہ ہے۔

راج کپور نے بوبی صرف اپنے بیٹے رشی کپور کو لانچ کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی پچھلی فلم میرا نام جوکر کے بھاری نقصان کی تلافی کے لیے بھی بنائی تھی۔

رشی کو فلم میں صرف اس لیے کاسٹ کیا گیا کیونکہ راج کپور کے پاس راجیش کھنہ، راجیش کھنہ کو کاسٹ کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔

یہ فلم ان کے بینر آر کے فلمز کے تحت تیار کی گئی تھی جس میں 20 سالہ رشی اور 16 سالہ ڈمپل کو نوجوان محبت کرنے والوں کے طور پر دکھایا گیا تھا جو فرار ہو جاتے ہیں۔

اس فلم میں پریم ناتھ، پران، پریم چوپڑا، ارونا ایرانی، فریدہ جلال، اور درگا کھوٹے نے بھی اداکاری کی تھی۔

حیرت انگیز طور پر، فلم کو ریلیز کے بعد اوسط ریویوز ملے لیکن عوام میں یہ تیزی سے مقبول ہوئی اور سپر ہٹ ثابت ہوئی تھی۔