عمران خان کے بیٹے ٹرمپ کے معاون سے ملنے امریکہ پہنچ گئے
سلیمان اور قاسم! آپ کو مضبوط رہنا ہوگا، رچرڈ گرینل کا پیغام
سابق وزیراعظم و بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے بیٹوں کی سابق امریکی انٹیلیجنس چیف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون خصوصی رچرڈ گرینل سے ملاقات ہوگئی۔
عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سیلمان خان کی رچرڈ گرینل سے یہ ملاقات امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ہوئی، جس کے ساتھ ہی انہوں نے اڈیالہ جیل میں قید اپنے والد کی رہائی کے لیے مہم کا آغاز کردیا۔
عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے رچرڈ گرینل نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر عمران خان کے بیٹوں کے ساتھ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'کیلیفورنیا میں خوش آمدید میرے دوستو، آج آپ لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگا'۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 'سلیمان اور قاسم! آپ کو مضبوط رہنا ہوگا، دنیا بھر میں کروڑوں لوگ سیاسی انتقامی کارروائیوں سے تنگ آ چکے ہیں، آپ اکیلے نہیں ہیں'۔
ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ’فری عمران خان‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
دریں اثنا عمران خان کے بیٹوں نے پاکستانی نژاد امریکی معالج ڈاکٹر آصف محمود سے بھی ملاقات کی، جو امریکا میں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل کرنے کی مہم میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر آصف محمود امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کے نائب چیئرمین ہیں، انہوں نے ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ عمران خان کے بیٹوں اور رچرڈ گرینل کے ساتھ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان پر بے حد فخر ہے جو جیل میں ناحق قید اپنے والد، سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے رچرڈ گرینل کو انصاف اور اصولوں کا ساتھ دینے پر سراہا، اور عمران خان کی رہائی کے لیے اتحاد پر زور دیا۔
واضح رہے کہ عمران خان کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان حال ہی میں سیاسی طور پر اُس وقت فعال نظر آئے جب انہوں نے مئی میں پہلی بار عوامی سطح پر اپنے والد کی قید پر دنیا کی توجہ دلائی تھی اور انکی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا تھا کہ عمران خان کے دونوں بیٹے پہلے امریکا جائیں گے، تاکہ اپنے والد کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو اجاگر کر سکیں، اس کے بعد وہ پاکستان آ کر اس تحریک کا حصہ بنیں گے، جو سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے چلائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ ان پر 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔



