فلم / ٹی وی

ندا یاسر کی ملازماؤں کی چوریوں کے قصے سُن سُن کر عوام بیزار

ندا یاسر نے ایک بار پھر اپنے گھر میں ملازمہ کی چوری کا قصہ سُنا دیا

Web Desk

ندا یاسر کی ملازماؤں کی چوریوں کے قصے سُن سُن کر عوام بیزار

ندا یاسر نے ایک بار پھر اپنے گھر میں ملازمہ کی چوری کا قصہ سُنا دیا

ندا یاسر کی ملازماؤں کی چوریوں کے قصے سُن سُن کر عوام بیزار

مشہور مارننگ شو ہوسٹ ندا یاسر، جو گزشتہ سترہ برس سے مارننگ شو 'گڈ مارننگ پاکستان' کی میزبانی کر رہی ہیں، ایک بار پھر اپنی گھریلو ملازماؤں کی چوریوں کے قصے سنانے کے سبب سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گئیں۔

ندا یاسر گزشتہ کئی سالوں سے شوبز کی دنیا سے جڑی ہوئی ہیں اور شادی بھی اسی شعبے سے تعلق رکھنے والی فیملی میں کی۔

ندا یاسر نے سال 2002 میں اداکار، پروڈیوسر و ہدایتکار یاسر نواز سے پسند کی شادی کی جن سے انکے دو بیٹے فرید، بالاج اور ایک بیٹی صلہ ہیں۔

حال ہی میں نشر ہونے والے پروگرام میں ندا یاسر نے سینئر اداکاراؤں حنا رضوی، فہیمہ اعوان اور غزل صدیقی کو مدعو کیا، جہاں وہ ماضی کی یادیں اور تجربات شیئر کر رہی تھیں۔

اسی دوران ندا یاسر نے ایک بار پھر اپنی گھریلو ملازمہ کی چوری کا واقعہ دہراتے ہوئے بتایا کہ جب میرے بچے چھوٹے تھے، تو میں نے اپنی کسی دوست کے مشورے پر ایک نوکرانی رکھی تھی، اس کی ماں میری دوست کے گھر کام کرتی تھی، میری دوست کے بچوں کا اسکول میرے گھر کے قریب تھا اور وہ اپنی نوکرانی کو بچوں کو لینے بھیجتی تھی، جبکہ میں خود اسکول کے باہر کھڑی ہوکر اپنے بچوں کا انتظار کرتی تھی'۔

ندا یاسر نے بتایا کہ 'ایک دن میری اس دوست نے کہا کہ اس کی نوکرانی بچوں کا انتظار کرنے کیلئے میرے گھر رک جایا کرے، میں نے ہاں کر دی، مگر پھر اس نوکرانی نے میری لیدر جیکٹس اور قیمتی چیزیں چوری کرنا شروع کر دیں، تب مجھے احساس ہوا کہ کب کس کو 'نہ' کہنا چاہیے، انسان میں یہ سمجھ ہونا بہت ضروری ہے'۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ندا یاسر اپنے شو میں اپنی ملازماؤں کی چوریوں اور ان کے نامناسب رویوں کے قصے متعدد بار بیان کر چکی ہیں۔

اب اس تازہ شو کی ویڈیو وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا صارفین نے ندا یاسر کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا، یوٹیوب، ایکس (ٹوئٹر) اور انسٹاگرام پر درجنوں طنزیہ تبصرے سامنے آئے جن میں سوشل میڈیا صارفین نے ندا یاسر کی ملازماؤں کی چوریوں کے قصوں کا خوب مذاق اڑایا۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'ایسا ایک الگ شو ہونا چاہیے جس میں صرف ندا بیٹھی ہوں اور وہ بتاتی جائیں کہ اُن کے گھر کتنی بار چوری ہو چکی ہے، ہر قسط میں ایک نئی کہانی'

ایک اور صارف نے طنز کیا کہ 'پورے کراچی میں سب سے زیادہ چوریاں اگر کہیں ہوتی ہیں تو وہ ندا یاسر کا گھر ہے'۔

کسی نے لکھا کہ 'جیسے ہی کوئی عورت اپنی نوکرانی کے بارے میں کہانی سناتی ہے، ندا بی بی کے نوکرانیوں سے لگنے والے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور وہ فوراً اپنی ایک نئی کہانی سنا دیتی ہیں'۔

ایک مداح نے ہنستے ہوئے تبصرہ کیا کہ 'ندا بی بی اتنی صبح جاگتی ہیں، نیند خراب کر کے شو کرتی ہیں، ان کی کمائی دولت یوں چوری نہیں ہونی چاہیے'۔

جبکہ ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا 'ندا یاسر اور ان کی نوکرانیوں کی یہ چھوٹی چھوٹی پیاری کہانیاں'۔

اگرچہ ندا یاسر کا شو ٹیلیویژن ناظرین میں بےحد مقبول ہے، لیکن ان کی ذاتی زندگی سے متعلق بار بار دہرائے جانے والے قصے اب عوام کی تنقید اور طنز کا مرکز بن چکے ہیں۔