فلم / ٹی وی

ڈراما ’پرورش’ پر بھی ’LGBTQ’ کو فروغ دینے کا الزام؟

ڈرامے کا ایک سین متنازع قرار

Web Desk

ڈراما ’پرورش’ پر بھی ’LGBTQ’ کو فروغ دینے کا الزام؟

ڈرامے کا ایک سین متنازع قرار

ڈرامے کا ایک سین متنازع قرار
ڈرامے کا ایک سین متنازع قرار

ڈراما سیریل ’پرورش’ پر بھی  ایل جی بی ٹی کیو کو پروموٹ کرنے کا الزام لگ گیا۔

ان دنوں ٹاک آف دی ٹاؤن بننے والا ڈراما سیریل ’پرورش’ ایک ایسا ڈرامہ ہے جو روایتی کہانیوں سے ہٹ کر نئی نسل کی زندگی، ان کے چیلنجز، اور ایک مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے کے تجربات کو بیان کررہا ہے۔اور دیکھا جائے تو یہ ڈرامہ صرف تفریح نہیں بلکہ زندگی کی حقیقتوں کا عکاس ہے۔

پرورش کو بگ بینگ انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا جبکہ کرن صدیقی نے تحریر کیا، ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے ہیں میثم نقوی نے۔ یہ کہانی تین نسلوں پر مشتمل ایک خاندان کی ہے، جہاں ایک چھت کے نیچے مختلف نظریات، رویے، اور مزاج آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جنریشن زی کو خوبصورتی سے بیان کرنے والا یہ ڈراما ناظرین کے دل جیتے ہوئے ہے۔تاہم، حالیہ قسط میں ایک ایسا سین دکھایا گیا جس نے ’پرورش’ کے مداحوں کو چونکا کر رکھ دیا۔

اگر آپ بھی اس ڈرامے کو پہلی قسط سے دیکھ رہے ہیں تو قسط نمبر 31 کا ایک ایسا سین بھی ضرور ہی دیکھا ہوگا جس نے ایک تنازع کھڑا کردیا ہے۔

اس ایپیسوڈ میں  ولی  اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے اور  چھوٹے وینیوز پر پرفارم کرنے لگتا ہے۔ ایسے میں اسے ایک کیفے میں پرفارم کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن کیمرے میں ایک ایسا منظر قید ہوجاتا ہے جو تنازع کا باعث بن جاتا ہے۔

اس سین پر غور کیا جائے تو  جہاں ولی اپنی پرفارمنس میں مگن ہے وہیں کیمرہ ایک پوسٹر پر فوکس کرتا ہے جس پر رینبو ہارٹ (قوس و قزاح دل) بنا ہوتا ہے۔ چونکہ رینبو کا نشان عام طور پر LGBTQ+ کمیونٹی کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے ناظرین اس منظر سے ناخوش نظر آئے۔

جیسے ہی یہ سین وائرل ہوا سوشل میڈیا پر اس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

ایک صارف نے لکھاکہ،‘مجھے یہ ڈرامہ بہت پسند تھا لیکن اب یہ سین دیکھنے کے بعد میں اسے مزید نہیں دیکھ سکتا۔’

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ،’ ڈراما ساز  نوجوانوں میں ایسی چیزیں نارمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

ایک اور صارف نے کہا کہ،‘یہ اسلام کے خلاف ہے اور میڈیا نئی نسل کے لیے ان چیزوں کو عام کر رہا ہے۔’