انڈیا

بھارتی اداکارہ طالبعلم کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے پر گرفتار

حادثے کے بعد گاڑی رکی نہیں اور جائے وقوع سے فرار ہو گئی، عینی شاہدین

Web Desk

بھارتی اداکارہ طالبعلم کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے پر گرفتار

حادثے کے بعد گاڑی رکی نہیں اور جائے وقوع سے فرار ہو گئی، عینی شاہدین

(فوٹو: انڈیا ٹوڈے)
(فوٹو: انڈیا ٹوڈے)

بھارتی ریاست آسام کی مشہور اداکارہ نندنی کشیپ کو 'ہٹ اینڈ رن کیس' میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 جولائی کی شب گوہاٹی میں اداکارہ کی گاڑی نے 21 سالہ نوجوان کو کچل کر زخمی کردیا تھا جسکے بعد نوجوان کو اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ گزشتہ روز انتقال کرگیا۔

حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے 21 سالہ نوجوان کی شناخت سمیع الحق کے نام سے ہوئی ہے جو مقامی ٹیکنیکل کالج کا طالب علم اور میونسپل کارپوریشن میں جزوقتی ملازمت کرتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت اداکارہ ہی گاڑی چلا رہی تھیں اور ایکسیڈنٹ کے بعد موقع سے فرار ہوگئیں تھیں، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج ملنے اور عینی شاہدین کے بیانات کے بعد گزشتہ شب اداکارہ کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے نندنی کشیپ کو رات تقریباً 1:30 بجے نارتھ گوہاٹی میں واقع راجدھانی تھیٹر میں ریہرسل کے دوران گرفتار کیا اور انہیں قانونی کارروائی کے لیے ڈسپور پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

ڈی سی پی (ٹریفک) گوہاٹی، جیانتا سارتهی بورا نے تصدیق کی کہ نندنی کشیپ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) اور بھارتیہ شہری سورکشا سنہیتا (BNSS) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، دونوں دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔

پولیس کے مطابق نندنی کشیپ مبینہ طور پر ایک تیز رفتار بولیرو ایس یو وی گاڑی چلا رہی تھیں، جو کہ سمیع الحق سے جا ٹکرائی، جسکے نتیجے میں اُس کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور جسم کے کئی حصوں میں فریکچر ہوئے تھے۔

سمیع الحق اُس وقت گوہاٹی میونسپل کارپوریشن کی ایک ٹیم کے ساتھ اسٹریٹ لائٹس کی مرمت کے کام میں مصروف تھے، عینی شاہدین کے مطابق گاڑی تصادم کے بعد رکی نہیں اور جائے وقوعہ سے فرار ہو گئی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ حادثہ رات دیر گئے پیش آیا، لیکن ہمیں 25 جولائی کو کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، ہمیں اگلے روز 26 جولائی کو متاثرہ شہری کے اہلِ خانہ کی شکایت کے بعد واقعے کا علم ہوا۔

پولیس کے مطابق اگرچہ کچھ افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ نندنی کشیپ واقعے کے وقت شراب کے نشے میں دھت تھیں، لیکن چونکہ پولیس کو واقعے کی اطلاع اگلے دن ملی، اس لیے اسکا ثبوت نہیں مل سکا۔

حادثے کے بعد سمیع الحق کو فوری طور پر گوہاٹی میڈیکل کالج و اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ چار دن تک زیرِ علاج رہا، لیکن حالت بگڑنے پر اسے اپولو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم 29 جولائی کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

سمیع الحق کے ساتھی ورکرز کے مطابق انہوں نے گاڑی کا پیچھا کیا جو انہیں بالآخر کہلی پارہ کے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں مل گئی، جہاں نندنی کشیپ نے مبینہ طور پر گاڑی چھپانے کی کوشش کی اور واقعے کی ویڈیو بنانے والے ایک راہگیر پر مبینہ طور پر حملہ بھی کیا۔

پولیس نے نندنی کشیپ کی 2 گاڑیاں ضبط کر کے انہیں فرانزک سائنس لیبارٹری (FSL) بھیج دیا، جبکہ علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے۔

واقعے کے بعد مقامی افراد میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، آل آسام پولی ٹیکنک اسٹوڈنٹس یونین (AAPSU) نے ڈسپور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروا کر سمیع کے لیے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور نندنی کشیپ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔