انفوٹینمنٹ

'سکندر' ناکام ہوئی کیونکہ مجھے ہندی نہیں آتی، ڈائریکٹر

ہماری اسکرپٹس کا پہلے انگریزی، پھر ہندی میں ترجمہ کیا جاتا ہے، اے آر مروگادوس

Web Desk

'سکندر' ناکام ہوئی کیونکہ مجھے ہندی نہیں آتی، ڈائریکٹر

ہماری اسکرپٹس کا پہلے انگریزی، پھر ہندی میں ترجمہ کیا جاتا ہے، اے آر مروگادوس

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

بالی وڈ کے 'دبنگ اداکار' سلمان خان کی فلم 'سکندر' کی باکس آفس پر غیرمتاثرکن کارکردگی پر ڈائریکٹر نے انوکھی وضاحت دیدی۔

سلمان خان کی فلم 'سکندر'، جس سے بڑے پیمانے پر کامیابی کی امید کی جارہی تھی، باکس آفس پر بُری طرح ناکام ہوئی۔

فلم میں نہ صرف سلمان خان جیسا سپر اسٹار شامل تھا بلکہ رشمیکا مندنا کی مقبولیت اور ہدایتکار اے آر مروگادوس کا نام بھی اسے مضبوط بنیاد فراہم کر رہا تھا، تاہم توقعات کے برعکس فلم ناظرین کو متاثر نہ کر سکی۔

اب خود اے آر مروگادوس نے فلم کی ناکامی پر لب کشائی کی ہے اور اس کی بڑی وجہ خود کو ہندی زبان نہ آنے کو قرار دیا ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں اے آر مروگادوس نے کہا کہ کہ جب ہم اپنی مادری زبان میں فلم بناتے ہیں تو ہمیں موضوع پر کمان حاصل ہوتی ہے، ہم جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، کون سی چیز مقبول ہے اور اس زبان کے بولنے والے کس ٹرینڈ کو فالو کررہے ہیں، لیکن جب ہم زبان بدلتے ہیں تو ہم یہ نہیں جان پاتے کہ نوجوان اس زبان میں کیا انجوائے کر رہے ہیں؟

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اسکرپٹ کے ترجمے کا عمل فلم کی اصل روح کو ختم کردیتا ہے، جب ہم اسکرپٹ لکھتے ہیں تو پہلے اسے انگریزی میں ترجمہ کیا جاتا ہے، پھر دوبارہ ہندی میں، اس عمل سے جذبات اور مفہوم کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور ہم ہندی زبان بولنے سمجھنے والے فلم بینوں کے تقاضوں کو صحیح طور پر نہیں سمجھ پاتے۔

اے آر مروگادوس نے فلم بندی کے دوران کی مشکلات کا بھی ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ ہم صرف اندازہ لگا سکتے تھے کہ اداکار کیا کہہ رہے ہیں، لیکن یقین نہیں ہوتا تھا، ایک اجنبی زبان اور ماحول میں فلم بنانا ایسے ہوتا ہے جیسے آپ کے ہاتھ نہ ہوں، میں پُریقین ہوں کہ ایک فنکار کی طاقت اس کے کلچر اور زبان سے جُڑی ہوتی ہے۔

ان کے اس بیان پر کئی شائقین اور فلمی تجزیہ کار حیران رہ گئے کیونکہ ان کی پچھلی ہندی فلموں (مثلاً گجنی اور ہالیڈے) نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی اور انہیں مداحوں کے ساتھ ساتھ ناقدین نے بھی خوب سراہا تھا۔

فلم 'سکندر' کی ناکامی کے حوالے سے ناقدین نے اس کی کمزور اسکرپٹ، بےجان ہدایتکاری، اور متاثرکن پرفارمنس کی کمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

فلم کی کہانی سلمان خان کے کردار 'سنجے سکندر' کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی آنجہانی بیوی (رشمیکا مندنا) کی یاد میں ان 3 افراد کی حفاظت کا بیڑہ اٹھاتا ہے جنہیں اس کی بیوی کے اعضا عطیہ کیے گئے تھے۔

اگرچہ اس جذباتی پلاٹ کو فلم کا مرکزی پہلو بنایا گیا تھا، مگر اس میں وہ تاثیر اور توانائی نظر نہ آئی جو سلمان خان کی فلموں سے عموماً جڑی ہوتی ہے، جسکے سبب یہ فلم مداحوں کی توقعات پر پوری نہ اُتر سکی۔