مردوں کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟ ندا یاسر نے بتادیا
شوہر اپنی بیوی کے ہاتھ کے بنے بے ذائقہ کھانوں کو بھی مزے سے کھاتا ہے
پاکستانی اداکارہ و ٹی وی شو ہوسٹ ندا یاسر نے مردوں کو قابو میں رکھنے کا نیا طریقہ بتادیا۔
ندا یاسر گزشتہ کئی سالوں سے شوبز کی دنیا سے جڑی ہوئی ہیں اور شادی بھی اسی شعبے سے تعلق رکھنے والی فیملی میں کی۔
ندا یاسر نے سال 2002 میں اداکار، پروڈیوسر و ہدایتکار یاسر نواز سے پسند کی شادی کی جن سے انکے دو بیٹے فرید، بالاج اور ایک بیٹی صلہ ہیں۔
طویل عرصے سے مارننگ شو ہوسٹنگ کی دنیا میں قدم جمائے بیٹھی نظر آنے والی ندا اپنے شو میں شوبز سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات کو مدعو کرتی ہیں اور ان سے ازدواجی زندگی کے مسائل، تجربات اور مفید ٹپس پر گفتگو کرتی سنائی دیتی ہیں۔
حال ہی میں انہوں نے اپنے پروگرام میں ونیزہ احمد، فیضان شیخ اور ایک ماہرِ نفسیات کو مدعو کیا، جن سے دیگر اہم پہلو پر گفتگو کرنے کیساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔
اس گفتگو کے دوران اس پہلو پر بھی بات ہوئی کہ کیسے خواتین چالاکی سے اپنے شوہروں کو قابو میں رکھتی ہیں۔
اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ندا یاسر کا کہنا تھا کہ،’آپ نے ضرور نوٹ کیا ہوگا کہ آپ کے اردگرد بہت سی خواتین کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کو کیسے قابو میں رکھنا ہے۔’
ندا کے مطابق،’حالانکہ ان خواتین کیلئے لوگ اکثر منفی انداز میں کہتے ہیں کہ 'اس کا شوہر تو اس کے قابو میں ہے'، مگر درحقیقت وہ عورت اپنے شوہر کی نفسیات کو پڑھ لیتی ہے، جس کے بعد وہ کنٹرول حاصل کر لیتی ہے۔’
اپنی آنکھوں دیکھا ایک قصہ سناتے ہوئے ندا نے بتایا کہ،’مجھے اپنی قریبی دوستوں میں سے ایک خاتون یاد ہیں جنہوں نے اپنے شوہر کی سوچ اور عادتوں کو اس قدر سمجھا کہ اب ان کا شوہر اپنی بیوی کے ہاتھ کے بنے بے ذائقہ کھانوں کو بھی مزے سے کھاتا ہے۔’
ندا نے بتایا کہ،’ ہم سب بھی وہی پھیکا کھانا کھاتے تھے جو اس کے شوہر کو پسند تھا۔ تو اگر کسی کو اپنے شوہر کو قابو میں رکھنا ہے تو سب سے پہلے اس کے ذہن اور رویے کو سمجھنا ضروری ہے’۔
دوسری جانب ندا کے اس بیان اور طریقے کو بہت سی خواتین نے بے حد پسند کیا جبکہ کئی لوگوں نے اس بار بھی ندا پر تنقید کے تیر برسائے۔
صارفین کا خیال ہے کہ ندا اب غیر ضروری موضوع کو اپنی گفتگو میں شامل کرتی ہیں کیونکہ چند روز قبل بھی انہیں ملازمین کی جانب سے گھر میں چوری ہونے اور نقصان اٹھانے کی کہانی بیان کرنے پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔



