انفوٹینمنٹ

بیٹی کو آٹھ گھنٹوں میں دو بار دل کا دورہ، عینی خالد پر قیامت ٹوٹ پڑی

ایک باپ کی داد رسی کرنا مہنگا پڑگیا

Web Desk

بیٹی کو آٹھ گھنٹوں میں دو بار دل کا دورہ، عینی خالد پر قیامت ٹوٹ پڑی

ایک باپ کی داد رسی کرنا مہنگا پڑگیا

 
بیٹی کو  آٹھ گھنٹوں میں دو بار دل کا دورہ، عینی خالد پر قیامت ٹوٹ پڑی

پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں ایک زمانے میں راج کرنے والی عینی خالد طویل عرصے سے غائب ہیں لیکن انہوں نے واپسی کرکے اپنے حالات کے بارے میں خبر دی اور ہر کوئی غمگین ہوگیا۔

اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں عینی خالد نے اپنی سات سالہ بیٹی عائشہ کے ساتھ پیش آنے والے دل خراش واقعے کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ’ماہیا‘ کی پیروڈی نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی

عینی خالد نے بتایا کہ یہ 23 جنوری 2024 کا دن تھا، ایک ایسی تاریخ جو ہمیشہ کے لیے میری روح پر نقش ہو گئی۔

عینی نے بتایا کہ ان کی بیٹی، جو بالکل صحت مند تھی، اس کو صرف آٹھ گھنٹوں کے اندر دو بار دل کا دورہ پڑا۔

عینی نے لکھا کہ عائشہ اس کے ننھے سے دل کو بےترتیب دھڑکن اور آکسیجن کی کمی نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

45 منٹ تک آکسیجن کی شدید کمی کی وجہ سے اس کے organs ایک ایک کر کے کام کرنا چھوڑنے لگے تھے۔

ڈاکٹروں کو عائشہ کو لائف سپورٹ پر رکھنا پڑا، اس کے اندر ٹیوب ڈالی گئی اور heart-lung bypass machine سے جوڑا گیا، اور dialysis شروع کی گئی تاکہ گردے کام کرتے رہیں۔

عینی نے جذباتی انداز میں لکھا کہ میری آنکھوں میں آنسو تھے، میری بیٹی جو گھر میں ہنستی ، کھیلتی، ناچتی پھرتی تھی، اب بے ہوش ہو کر مشینوں اور تاروں میں جکڑی ہوئی تھی۔

عینی نے کہا کہ اس واقعے سے قبل عائشہ کو کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں تھی،میری عائشہ بالکل صحت مند پیدا ہوئی،اسے ایک بھی بیماری نہیں تھی اور اب وہ آرگن فیل ہونے، brain damage، اور فالج جیسے مسائل کا سامنا کر رہی تھی۔

پھر ڈاکٹروں نے عینی کو بتایا کہ عائشہ کو peripheral neuropathy ہو چکی ہے اور دماغی چوٹ کی وجہ سے وہ اب چلنے کے قابل نہیں رہی۔

عینی نے بتایا کہ مجھے اللہ پر یقین تھا ، جب ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تو اللہ نے امید دی، وہ اللہ جو رحمان ہے، رحیم ہے اور عائشہ اسی کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔

ڈاکٹر حیران تھے کہ وہ بچ کیسے گئی لیکن عینی نے کہا کہ یہ اللہ کی رحمت تھی۔ جہاں لاجک ختم ہو جائے، وہاں اللہ کی رحمت شروع ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ عائشہ یہاں ہے، زندہ ہے، مسکرا رہی ہے، ہنس رہی ہے، صحت یاب ہو رہی ہے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہے جتنا میں نے کبھی کسی بچے کو دیکھا اور ان شاء اللہ، ایک دن وہ دوبارہ چلے گی، میں دل کی گہرائیوں سے اس پر یقین رکھتی ہوں۔

آخر میں عینی خالد نے سب سے درخواست کی کہ براہِ کرم میری بیٹی عائشہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔