اسکینڈلز

’خودکشی کے خیالات آتے تھے‘ یوزویندر چہل کا طلاق کے بعد انکشاف

کانپنے لگتا تھا، پسینہ آتا تھا حالانکہ کمرے میں اے سی چل رہا ہوتا تھا، بھارتی کھلاڑی

Web Desk

’خودکشی کے خیالات آتے تھے‘ یوزویندر چہل کا طلاق کے بعد انکشاف

کانپنے لگتا تھا، پسینہ آتا تھا حالانکہ کمرے میں اے سی چل رہا ہوتا تھا، بھارتی کھلاڑی

’خودکشی کے خیالات آتے تھے‘ یوزویندر چہل کا طلاق کے بعد انکشاف

بھارتی کرکٹ ٹیم کے معروف اسپنر یوزویندر چہل نے بالآخر اپنی طلاق کے حوالے سے خاموشی توڑتے ہوئے پہلی بار لب کشائی کردی۔

یوزویندر چہل اور ان کی سابقہ اہلیہ و کوریوگرافر دھنشری ورما تقریباً 5 سال تک رشتہ ازدواج میں منسلک رہے، تاہم رواں سال 20 مارچ کو دونوں نے باضابطہ طور پر طلاق لے دی۔

حال ہی میں یوزویندر چہل نے ایک پوڈکاسٹ شو میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی کے سبب ہونے والے تناؤ اور نفسیاتی مسائل پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ شادی کے آخری مہینوں میں وہ شدید ڈپریشن، انگزائٹی اور خودکشی کے خیالات کا شکار ہو چکے تھے۔

یوزویندر نے پوڈکاسٹ کے دوران بتایا کہ 'مجھے انگزائٹی کے دورے پڑ رہے تھے، میں ڈپریشن میں تھا، خودکشی کے خیالات آ رہے تھے، میں نے سوشل میڈیا پر اپنے بارے میں بہت کچھ پڑھا، جو مجھے مزید تکلیف دیتا تھا، میں کرکٹ سے وقفہ چاہتا تھا، انگزائٹی کی وجہ سے میرا جسم کانپنے لگتا تھا، پسینہ آتا تھا حالانکہ کمرے میں اے سی چل رہا ہوتا تھا'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وجے ہزارے ٹرافی (دسمبر-جنوری 25-2024) کے دوران انہوں نے اسٹیٹ کرکٹ ٹیم سے وقفہ مانگا تاکہ وہ کچھ وقت ذہنی سکون حاصل کر سکیں۔

یوزویندر چہل نے بتایا کہ علیحدگی کی بنیادی وجہ دونوں کے مزاج اور زندگی کی ترجیحات میں فرق تھا، رشتہ سمجھوتے کا نام ہوتا ہے، لیکن جب دونوں افراد کی نیچر نہ ملے تو چیزیں نہیں چل پاتیں، میں بھارت کے لیے کھیل رہا تھا، وہ اپنی جگہ مصروف تھی، ہم ایک دوسرے کو وقت ہی نہیں دے پاتے تھے، یہ صورتحال ایک دو سال سے جاری تھی'۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُس وقت میں اِس سب میں اتنا مصروف تھا کہ ایک جگہ وقت دینا پڑتا تھا، دوسری جگہ وقت دینا پڑتا تھا، میں تعلقات کے بارے میں سوچ نہیں پا رہا تھا، پھر ہر روز یہی سوچتا تھا، چھوڑ د، دو بلند حوصلہ لوگ ساتھ رہ سکتے ہیں، ہر ایک کی اپنی زندگی ہے، ہر ایک کے اپنے اہداف ہیں، ایک شریک حیات کے طور پر آپ کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے، آپ 18-20 سال کسی چیز کے لیے کام کر رہے ہیں، اسے تعلقات کے لیے چھوڑنا ممکن نہیں‘۔

یوزویندر چاہل نے بتایا کہ انہوں نے طلاق کے عمل کو اس وقت تک نجی رکھا جب تک یہ مکمل نہ ہو جائے۔ 

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ کافی عرصے سے چل رہا تھا، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم لوگوں کو نہیں بتائیں گے، کون جانتا تھا کہ اگر یہ نہیں ہوتا تو کیا ہوتا؟ شاید صورتحال مختلف ہو جاتی، ہم نے سوچا جب تک واپس پلٹنے کا کوئی راستہ نہ ہو، کچھ نہیں کہیں گے، سوشل میڈیا پر عام جوڑے کی طرح رہیں گے‘۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس وقت دکھاوا کر رہے تھے تو چاہل نے سر ہلایا، جس سے ظاہر ہوا کہ ہاں وہ بالکل دکھاوا کر رہے تھے۔

یوزویندر چہل نے بتایا کہ ’میری طلاق کے وقت لوگ مجھے دھوکہ باز کہتے تھے، میں نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا، میں ایسا شخص نہیں ہوں، آپ مجھے کسی سے زیادہ وفادار نہیں پائیں گے، میں اپنے قریبی لوگوں کے لیے دل سے سوچتا ہوں، میں کبھی مانگتا نہیں، ہمیشہ دیتا ہوں، جب لوگ کچھ نہیں جانتے اور الزام لگاتے ہیں تو آپ سوچنے لگتے ہیں‘۔

جب یوزویندر چہل سے ان کی اپنی شخصیت میں موجود خرابیوں یعنی 'ریڈ فلیگز' کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار بہتر انداز میں نہیں کر پاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 'میں زیادہ بولتا نہیں، نہ خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور نہ غم کا، یہی میری سب سے بڑی خامی تھی اور میں اب اس پر کام کر رہا ہوں، میں کبھی گالی نہیں دیتا، جھگڑوں میں مارپیٹ نہیں کرتا، ہمیشہ عزت سے بات کرتا ہوں'۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میری 2 بہنیں ہیں اور میں بچپن سے ان کے ساتھ بڑا ہوا ہوں، مجھے عورتوں کا احترام کرنا آتا ہے، کیونکہ میرے والدین نے مجھے سکھایا ہے کہ عورتوں کا احترام کیسے کرنا ہے، میں نے اپنی زندگی کے اسباق اپنے آس پاس کے لوگوں سے لیے ہیں، ضروری نہیں کہ اگر میرا نام کسی کے ساتھ جُڑ جائے تو لوگ صرف ویوز کے لیے کچھ بھی لکھیں‘۔

طلاق کے بعد یوزویندر چہل کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، خاص طور پر اُس وقت جب انہوں نے عدالت میں پیشی کے موقع ایک مخصوص پیغام والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی، جسے لوگوں نے سابقہ اہلیہ پر طنز سمجھا۔

اس حوالے سے یوزویندر چہل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ 'جب طلاق ہوئی، تو میں خوش تھا کیونکہ میں بدترین وقت سے نکل آیا تھا، ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو میری خوشی سے جلن ہوئی ہو لیکن میں نے اس وقت میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی اذیت جھیلی تھی'۔

طلاق کے فوراً بعد دھنشری ورما نے ایک میوزک ویڈیو ریلیز کی، جس میں بے وفائی اور گھریلو تشدد جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی، اس کے بعد یوزویندر چہل پر بےوفائی کے الزامات لگائے گئے، تاہم انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ 'میں نے زندگی میں کبھی کسی سے بے وفائی نہیں کی، میں ایسا انسان ہوں ہی نہیں، آپ کو مجھ سے زیادہ وفادار شخص نہیں ملے گا، میں دل سے لوگوں کا سوچتا ہوں، ہمیشہ دینے والا ہوں، مانگنے والا نہیں، لوگ بغیر جانے الزام لگاتے رہے'۔

یوزویندر چہل نے اعتراف کیا کہ عوامی تنقید اور ذاتی مسائل کا ایک ساتھ سامنا کرنا ان کی ذہنی صحت پر شدید اثر ڈالا، جسکے سبب وہ ڈپریشن میں چلے گئے تھے اور خودکشی کے خیالات بھی آئے۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرے ذہن میں خودکشی کے خیالات آئے، میں اپنی زندگی سے تھک گیا تھا، 2 گھنٹے رویا کرتا تھا۔ میں صرف 2 گھنٹے سوتا تھا۔ یہ 40-45 دن تک چلا، مجھے کرکٹ سے وقفہ چاہیے تھا۔ میں کرکٹ میں بہت مصروف تھا۔ میں توجہ نہیں دے پا رہا تھا، اپنے دوست سے خودکشی کے خیالات شیئر کرتا تھا، مجھے خوف آتا تھا‘۔