پاکستان

بے نظیر بھٹو کے اس ’سبز لباس‘ کی سیاسی اہمیت کیا ؟

Web Desk

بے نظیر بھٹو کے اس ’سبز لباس‘ کی سیاسی اہمیت کیا ؟

بے نظیر بھٹو کے اس ’سبز لباس‘ کی سیاسی اہمیت کیا ؟

گزشتہ روز دبئی کے مشہور میوزیم ’مادام تساؤ‘ میں اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا موم سے بنا مجسمہ نصب کیا گیا، یہ مجسمہ دبئی سے قبل 1989 میں ’مادام تساؤ لندن میوزیم‘ میں نصب تھا۔

مادام تساؤ میوزیم کے بارے میں

خیال رہے کہ مادام تساؤ میوزیم دنیا بھر میں شہرت کا حامل ہے جہاں دنیا بھر کی معروف اور نامور شخصیات کے مومی مجسمے موجود ہیں جسے ایک اعزاز بھی سمجھا جاتا ہے، اس میوزم کو ایک فرانسیسی مجمسہ ساز خاتون مادام تساؤ نے 1835میں قائم کیا تھا اور اب اس کی برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں شاخیں بھی قائم ہیں۔

اس مجسمےمیں بے نظیر  بھٹو نے جو لباس زیب تن کررکھا ہے  وہ ان کی سیاسی تاریخ میں کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایسا سبز سلک کا بنا شلوار قمیص انہوں نے 2 دسمبر 1988 کو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں زیب تن کیا تھا۔

بے نظیر بھٹو کے اس ’سبز لباس‘ کی سیاسی اہمیت کیا ؟

اس دن بے نظیر بھٹو کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے تمام مسلم ممالک میں پہلی خاتون وزیرِ اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا جو ہمیشہ ان کی کامیابیوں کی فہرست میں شامل رہے گا۔

اس لباس کو پاکستانی ڈیزائنر ماہین خان نے تیار کیا تھا اور اس تاریخی حیثیت کے حامل لباس کی تیاری کو ایک عظیم کارنامہ گردانتی ہیں۔

ماہین بتاتی ہیں کہ ’محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کو کاندھوں پر پف لازمی رکھنے کی ہدایت دی تھی جو 80 کی دہائی کا ایک مقبول ترین فیشن تھا‘۔

اس لباس کو بناتے ہوئے شوخ رنگ کا استعمال کیا گیا، سبز شلوار اور قمیص سلک کے کپڑے کی بنائی گئی جبکہ اس کو مزید دلکش بنانے کیلئے سفید ململ کے دوپٹے کا انتخاب کیا گیا۔

جہاں یہ لباس بے حد حسین تھا وہیں بے نظیر بھٹو کی باکمال اور کرشماتی شخصیت نے اس جوڑےکی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیا۔

علاوہ ازیں بینظیر کے اپنے مخصوص انداز میں ململ کے دوپٹے کو سر پر اوڑھنا ان کے لُک کو مزید چار چاند لگا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی کے اس میوزیم میں پہلی مرتبہ کسی پاکستانی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے، اس مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب میں پاکستان کے وزیر خارجہ و بینظیر بھٹو کے صحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم بینظیر بھٹو 21 جون، 1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں، دو بار پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر رہنے والی یہ عظیم سیاسی لیڈر 27 دسمبر 2007 کو ایک قاتلانہ حملے میں اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔