عالمی منظر

بھارت کا مفرور ارب پتی وجے مالیا کون؟

Web Desk

بھارت کا مفرور ارب پتی وجے مالیا کون؟

بھارت کا مفرور ارب پتی وجے مالیا کون؟

بھارت کی ایک نجی فضائی کمپنی کے ارب پتی مالک جن کے شراب کے کارخانے بھی چل رہے تھے، وہ بھی بینکوں سے لئے گئے قرضوں کی عدم ادائیگی کی بنا پر اپنی دولت کے ایک بڑے حصے سے محروم ہوچکے ہیں اور ان دنوں اپنے ملک سے فرار ہو کر لندن میں موجود ہیں۔ 

بھارتی حکومت انہیں ملک میں واپس لانے اور ان پر جعل سازی اور منی لانڈرنگ کے تحت مقدمہ قائم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

 وجے مالیا کرناٹک سے بھارتی پارلیمنٹ کے آزاد رکن بھی رہ چکے ہیں اور ابتدا ہی سے شراب و شباب کے رسیا اور پرتعیش طرز زندگی کے عادی تھے۔

 بھارت کی ایک نجی فضائی کمپنی ’’کنگ فشر ایئر لائنز‘‘ بھی ان کی ملکیت میں تھی لیکن قرضوں کے بوجھ تلے دب کر 2012ء میں فضائی کمپنی کو پروازیں بند کرنا پڑیں۔ سال کے ابتدا ہی سے یہ خبریں منظر عام پر آنے لگی تھیں کہ وجے مالیا نے کنگ فشر ایئر لائنز کو محو پرواز رکھنے کیلئے مختلف بینکوں سے بھاری قرضے لے رکھے ہیں۔ 

جب وہ ادائیگیوں کے سلسلے میں نادہندہ ہوگئے تو قرضے فراہم کرنے والے بھارتی بینکوں نے مفرور ملزم کا تعاقب کرنا شروع کیا۔ 2002ء سے 2016ء تک وجے مالیا راجیہ سبھا کے رکن تھے اور اس عرصے میں انہوں نے اپنا ایک سفارتی (ڈپلومیٹک) پاسپورٹ بنوا لیا تھا جس کی مدد سے وہ بھارت سے برطانیہ فرار ہوگئے اور اب بھی وہیں مقیم ہیں۔

 بینکوں کے علاوہ بھارتی حکومت بھی سر توڑ کوشش کررہی ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے انہیں بھارت واپس لایا جائے لیکن ابھی تک انہیں کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔ وجے مالیا پر 13؍ بینکوں کے 90؍ ارب روپے (ایک ارب 30؍ کروڑ ڈالر) کے قرضے چڑھے ہوئے ہیں۔

 3؍ اکتوبر 2017ء کو انہیں لندن میں منی لانڈرنگ کیس کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں پھر ان کی ضمانت منظور ہوگئی اور اب وہ رہا ہیں اور مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ 

جولائی 2018ء میں بینکوں کی کنسورشیم نے لندن میں وجے مالیا کی دو کروڑ پائونڈ مالیت کی جائیداد ’’کورن وال ٹیرس‘‘ کو ضبط کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وجے نے دعویٰ کردیا کہ یہ پراپرٹی ان کی والدہ کی ملکیت ہے۔

اکتوبر 2020ء میں برطانیہ کی جانب سے بھارتی حکومت کو بتایا گیا تھا کہ ’’ایک خفیہ قانونی مسئلے کی بنا پر فی الحال وجے مالیا کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔‘