انفوٹینمنٹ

جنسی استحصال، ثانیہ مرزا کا دل نادیہ جمیل نے جیت لیا

Web Desk

جنسی استحصال، ثانیہ مرزا کا دل نادیہ جمیل نے جیت لیا

جنسی استحصال، ثانیہ مرزا کا  دل نادیہ جمیل نے جیت لیا

بھارتی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے پاکستانی اداکارہ اور سماجی کارکن نادیہ جمیل کے ہر عمل کی تعریف کرتے ہوئے ان کو متاثر کن شخصیت قرار دے دیا۔

حال ہی میں نادیہ جمیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر  اپنی چند تصاویر جاری کرتے ہوئے بچپن کے صدمے، بچوں کے جنسی استحصال اور اس کے ذاتی تجربات کے حوالے سے اپنی جدوجہد کے بارے میں ایک طویل پوسٹ شیئر کی۔

مذکورہ پوسٹ میں نادیہ جمیل نے لکھا 'یہاں تک پہنچنے میں مجھے ایک طویل عرصہ لگا لیکن اللہ کا مجھ پر بہت کرم ہے اور الحمداللہ فخر سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں نے ان سب کا ڈٹ کر بہادری سے مقابلہ کیا'۔

اداکارہ نے لکھا کہ 'میں زندگی میں بہت گہرے درد سے گزری جس کے سبب مجھ میں بالکل خود اعتمادی نہیں بچی تھی لیکن اپنے اپنی تمام پریشانیاں لوگوں پر عیاں نہین ہونے دیں۔‘

نادیہ نے لکھا ' یہ سلسلہ اس وقت تک نہین روکا جہ جب میں نے یہ سمجھ لیا کہ میں کسے خود سے محبت کرسکتی ہوں ، خود کو خش رکھ اور کس طرح اپنی عزت کرواسکتی ہوں۔‘

انہوں نے بچوں کے استحصال کے حوالے سے لکھا کہ ’ مجھے اپنی شرٹ بے حد پسند آئی ہے، میں بچپن میں خائف رہنے والی بچی تھی لیکن اب میں ایک بہادر خاتون بن چکی ہوں۔‘

علاوہ ازیں جس شرٹ کی بات اداکارہ کر رہی ہیں وہ انہوں نے شیئر کی گئی تصاویر میں پہنی ہوئی ہے اور اس پر ’اس پر میں شرمندہ نہیں، بچپن میں میرے ساتھ جنسی ہراسانی ہوئی لیکن میں ایک بچی تھی لہٰذا اس میں میری غلطی نہیں تھی، میں اس پر شرمندہ نہیں‘ لکھا ہے۔

ثانیہ مرزا نے پاکستانی اداکارہ نادیہ کی اس پوسٹ کو ری شیئر کیا اور کیپشن میں لکھا 'آپ حقیقت میں متاثر کن شخصیت ہیں، میں آپ کو اور آپ کے ہر عمل کو کافی مدت سے فالوو کر رہی ہوں ، بہت زبردست۔‘

واضح رہے کہ ماضی میں نادیہ جمیل نے انکشاف کیا تھا کہ بچپن میں ان کے ساتھ پیش آنے والے متعدد جنسی ہراسانی کے واقعات میں ان کے گھریلو ملازمین بھی ملوث تھے۔

اس سے قبل اداکارہ نے 2022 میں کی گئی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ وہ پہلی بار 4 سال کی عمر میں جنسی استحصال کا شکار ہوئیں، دوسری مرتبہ 9 برس، تیسری بار 17 اور چوتھی مرتبہ 18 سال کی عمر میں ان کا جنسی استحصال ہوا۔ خیال رہے کہ نادیہ جمیل کو 2020 میں کینسر کے مرض کی بھی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد ان کا طویل علاج ہوا اور وہ 2021 میں مکمل صحتیاب ہوگئیں۔