انفوٹینمنٹ

شاہ رخ خان کے انکار پر فلم ’دیوداس‘ کیوں نہ بنتی؟

Web Desk

شاہ رخ خان کے انکار پر فلم ’دیوداس‘ کیوں نہ بنتی؟

شاہ رخ خان کے انکار پر فلم ’دیوداس‘ کیوں نہ بنتی؟

بالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم ’ ہم دل دے چکے صنم‘ جب تمام ریکارڈز توڑ ڈالے تو فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نے تھوڑا سا آرام کرنے کا سوچا ، اس دوران انہوں نے ایک دن ناول نگار سارت چندر چٹھ پودھے کے1917میں شائع ہونے والے اس بنگالی ناول کا ہندی زبان میں ترجمہ پڑھنا شروع کیا جس پر ’دیوداس‘ جیسی فلمیں بنی تھیں۔

1955میں ریلیز ہونے والی فلم دیوداس میں لیجنڈری دلیپ کمار نے خوبصورت انداز میں مرکزی کردار ادا کیا جبکہ 1936 میں بننے والی فلم میں کے ایل سہگل دیوداس بنے تھے۔ سنجے لیلا بھنسالی دونوں فلمیں دیکھ چکے تھے لیکن ناول کا ابتدائی مطالعہ کرتے وقت بھی ان کے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا کہ انہیں فلم دیوداس بنانی چاہیے۔

اتفاق سے فلمی تقریبات میں انہیں چند لوگوں نے دیوداس فلم بنانے کا مشورہ دیا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ اسِ دور میں ایسی فلم سنجے لیلا بھنسالی ہی بنا سکتے ہیں جنہوں نے ’ہم دل دے چکے صنم‘ جیسی شاندار فلم بنا کر شائقین کے دل جیت لیے۔مگر فلم ساز ایسے مشورو کو ہنس کر ٹال دیا کرتے تھے۔

مگر جیسے ہی سنجے لیلا بھنسالی ناول پڑھتے گئے تو انہیں یہ کہانی اتنی پسند آئی کہ وہ دل ہی دل میں فلم بنانے کا سوچنے لگے، دلچسپ بات یہ تھی کہ اس وقت ہی انہیں شاہ رخ کا خیال آیا اور تھوڑی دیر سوچنے کے بعد انہوں نے شاہ رخ کے ساتھ فلم دیواس بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ان کا خیال تھا کہ دلیپ کمار اور کے ایل سہگل کے بعد اگر کوئی دیوداس مکھرجی کا کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ صرف شاہ رخ خان ہی ہیں۔

مگر جب سنجے لیلا بھنسالی نے شاہ رخ خان سے رابطہ کیا تو وہ ہچکاہٹ دکھا رہے تھے کیونکہ وہ دیوداس کے کردار کیلئے دلیپ کمار اور کے ایل سہگل کے مقابلے میں خود کو بہت پیچھے دیکھ رہے تھے، لیکن ہدایتکار نے شاہ رخ کو یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر وہ یہ پیشکش ٹھکرا دیں گے تو فلم بھی نہیں بنے گی، کیونکہ سنجے لیلا بھنسالی شاہ رخ کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی یہ فلم نہیں بنانا چاہتے تھے۔

سنجے لیلا بھنسالی کا ناقابلِ یقین اعتماد دیکھ کر شاہ رخ بھی راضی ہوگئے، جس کے بعد ہی انہوں نے اسکرپٹ پر کام کرنا شروع کردیا۔اس کے بعد فلم ساز کی خواہش تھی کہ وہ دو ملکہ حسن یعنی سشمیتاسین اور ایشوریا رائے کو شاہ رخ خان کے مقابل پیش کریں لیکن اسکرپٹ فائنل ہوجانے کے بعد انہیں لگا کہ ’چندر مکھی‘ کے لیے سشمیتا سین کے بجائے مادھوری ڈکشٹ زیادہ مناسب ہیں۔

سنجے لیلا بھنسالی نے’دیوداس‘ بنانے کے پروڈیوسر بھرت شاہ پر واضح کردیا تھا کہ وہ اداکاروں کے قیمتی اور مہنگے ملبوسات ہی نہیں سیٹس ایسے عظیم الشان اور شاندار بنائیں گے کہ اس سے پہلے کسی فلم میں استعمال نہ ہوئے ہوں۔ ہیروں کے بڑے سوداگر تصور کیے جانے والے بھرت شاہ نے سنجے کو کھلی چھوٹ دی کہ جتنی رقم درکار ہو بے دریغ مانگ سکتے ہیں۔ گیت ’کاہے چھیڑے موہے‘ میں مادھوری ڈکشٹ نے 30کلو کا وزنی قیمتی سراپا پہن کر عکس بند کرایا جس کی تیاری میں خطیر رقم خرچ ہوئی۔فلم کا بجٹ 50 کروڑ روپے رہا جو 2001 میں اس دور کے حساب سے سب سے بڑا بجٹ تصور کیا گیا۔

کلاسک فلم ڈیڑھ سال کے طویل عرصے کے بعد 12جولائی 2002کو جب ریلیز ہوئی تو ہر سنیما گھر میں دیوداس کا راج تھا، ہاؤس فلم کے بورڈ بورڈز آویزاں ہو گئے۔یہ فلم دیکھنے کے بعد انڈسٹری اور شائقین کی جانب سے دیوداس فلم کی حد تک شاہ رخ اور دلیپ کمار کا موازنہ ہونے لگا، فلم پنڈتوں کا کہنا تھا کہ جہاں ماضی میں دلیپ کمار نے ’دیو داس‘ بن کر اپنی الگ مثال قائم کی، وہیں شاہ رخ خان بھی پیچھے نہیں رہے۔ سنجے لیلا بھنسالی بھی بے حد خوش تھے کیونکہ شاہ رخ نے ان کی خواہش کے مطابق اس کردار کو چیلنج سمجھ کر ایسا ادا کیا کہ خود پر اسے طاری کرلیا۔شاہ رخ کی فلم دیوداس جب دلیپ کمار کو بطور خاص دکھائی گئی تووہ بھی شاہ رخ خان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ اگلے سال فلم فیئر ایوارڈز کیلئے ’دیوداس‘ نے 11ایوارڈز اپنے نام کیے۔