پاکستان

عام انتخابات،خیبرپختونخوا کی پہلی ہندو خاتون امیدوار نامزد

سویرا پرکاش نےبھارت میں بھی ہلچل مچادی

Web Desk

عام انتخابات،خیبرپختونخوا کی پہلی ہندو خاتون امیدوار نامزد

سویرا پرکاش نےبھارت میں بھی ہلچل مچادی

عام انتخابات،خیبرپختونخوا کی پہلی ہندو خاتون امیدوار نامزد

عام انتخابات 2024 کیلئے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سویرا پرکاش نے جنرل نشست کیلئےکاغذات نامزدگی جمع کرکے بھارت میں بھی ہلچل مچادی۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ ڈاکٹرسویرا پرکاش نے 25 بونیر اور صوبائی و قومی اقلیتی نشستوں کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ہونےکا سہرا اپنے سر سجالیا۔

سویرا پرکاش کے والد اوم پرکاش ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ گزشتہ 35 سالوں سے پارٹی کے سرگرم رکن بھی رہ چکے ہیں جبکہ بیٹی بھی سیاسی میدان میں قدم جمانے کے ساتھ ہی  پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے پر امید ہے۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سویرا پرکاش کا کہناتھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت نے میرے والد ڈاکٹر اوم پرکاش سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو الیکشن لڑنے کیلئے جنرل سیٹ پر کھڑا کریں، امید ہے پارٹی مجھے حلقہ پی کے 25 کیلئے ٹکٹ دے گی۔

یاد رہے کہ ایم بی بی ایس کے بعد ہاؤس جاب سے فارغ ہوکرسویرا ان دنوں لاہور میں اکیڈمی جوائن کرکے سی ایس ایس کی تیار ی بھی کررہی ہیں، اور صرف یہی  نہیں سویرا پرکاش بونیر میں پی پی پی خواتین ونگ میں جنرل سیکرٹری کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔

اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں قدم رکھنے والی اقلیتی برادری  کی پہلی خاتون پرکاش کا کہنا تھا کہ وہ علاقے کے غریبوں کے لیے کام کرنے میں اپنے والد کے شانہ بشانہ کھڑی ہونا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان  کی حالیہ ترامیم کے تحت اب عام نشستوں پر پانچ فیصد خواتین امیدواروں کی شمولیت لازمی ہے۔