عالمی منظر

دنیا کے کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم ہیں؟

Web Desk

دنیا کے کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم ہیں؟

دنیا کے کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم ہیں؟

 اسٹاک ہوم میں واقع ادارے ’’دی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘‘ (ایس آئی پی آر آئی) کی رپورٹ میں دنیا میں موجود ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے کافی اہم اعدادوشمار سامنے آئے ۔

اس رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے 9ملک جوہری صلاحیت کے حامل ہیں۔ ان ممالک میں امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس، اسرائیل، انڈیا، پاکستان اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ سپری کی رپورٹ کے مطابق ان ملکوں کے پاس اس وقت تقریباً 13ہزار سے زائد جوہری ہتھیار ہیں۔ ان جوہری ہتھیاروں میں سے3825ایٹمی ہتھیار ایسے ہیں جن کو فوری طور پر کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے تیار کہا جاسکتا ہے۔ یاد رہے پچھلے سال فوری کارروائی کے لیے تیار ہتھیاروں کی تعداد3720 تھی۔ فوری کارروائی کے لئے تیار جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں موجود ایسے کل3825 جوہری ہتھیاروں میں سے تقریباً دو ہزار جوہری ہتھیار امریکا اور روس کے پاس ہیں جنہیں ہائی الرٹ موڈ میں رکھا گیا ہے۔ اسرائیل کے پاس تقریباً90 اور شمالی کوریا کے پاس 40-50 جوہری ہتھیار ہیں۔

سپری کے مطابق6375 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ روس سب سے آگے ہے۔ روس نے 1570 جوہری ہتھیار نصب بھی کر رکھے ہیں۔ سابق سوویت یونین نے اپنی طرف سے پہلی بار ایٹمی دھماکا 1949 ء میں کیا تھا۔ 2015 ء میں روس کے پاس 8ہزار جوہری ہتھیار تھے، جن میں سے متروک ہتھیار ختم کر دیئے گئے۔ سپری کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس اور امریکا جدید اور مہنگے جوہری ہتھیار تیار کررہے ہیں۔ دنیا میں روس اور امریکا کے پاس سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں اور عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کا 90 فیصد ذخیرہ انہی دو ملکوں کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دس نئے ہتھیار بنائے ہیں اور اس وقت اس کے پاس 40-50 جوہری ہتھیار ہیں۔ اسی طرح چین نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 نئے جوہری ہتھیار بنائے ہیں اور اب اس کے پاس تقریباً350 جوہری ہتھیار ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ نئے جوہری ہتھیار بنائے ہیں اور اب اس کے تقریباً 165 جوہری ہتھیار ہیں ۔ جبکہ انڈیا نے گزشتہ سال چھ نئے جوہری ہتھیار بنائے اور اب اس کے پاس تقریباً 156 جوہری ہتھیار ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق امریکا، روس اور چین جیسی عالمی طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید مہلک اور جدید تر کر رہی ہیں۔ اس کے مطابق اگرچہ گزشتہ برس کے بعد مجموعی طور پر دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی آئی ہے تاہم عملی طور پر ایسے جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی میں اضافہ ہوا ہے۔

سپری کی رپورٹ کے مطابق رواں برس کے آغاز میں امریکا، روس، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل، اور شمالی کوریا کے پاس مجموعی طور پر تیرہ ہزار 80 ایٹمی ہتھیار تھے اور گزشتہ برس کے مقابلے میں ان میں320کی کمی آئی ہے۔

دنیا میں امن پسند حلقے جو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے حامی ہیں، وہ مجموعی طور پر عالمی افواج کے ذخائر میں وارہیڈز کی تعداد میں ہونے والے اضافے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی امن کو یقینی بنانے اور تباہ کن جنگوں کو روکنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جوہری صلاحیت ملکوں کے مابین جنگوں کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوئی ہے۔

امریکا اور روس کے درمیان 2011 ء میں نیو اسٹرٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (نیو اسٹارٹ) کا معاہدہ ہوا تھا۔ نیو اسٹارٹ معاہدہ، نصب کیے جانے والے جوہری ہتھیاروں، میزائلوں اور بموں کی تعداد کو محدود کرنے سے متعلق ہے۔ یہ معاہدہ اس برس فروری میں ختم ہو رہا تھا جس کی دونوں نے تجدید کرلی اور اب یہ فروری 2026 ء تک چلے گا۔

جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی یادیں بہت تکلیف دہ ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے جلد اختتام کے لئے بے چین اتحادی قیادت کو جرمنی کی شکست کے بعد جاپانی فوجوں کی مزاحمت کا سامنا تھا، جس کے لئے ایک بڑے متحدہ حملے کی تیاریاں جاری تھیں لیکن پھر اسی دوران ایک نئے جنگی ہتھیار کے وجود میں آ جانے کے باعث روایتی حملے کا فیصلہ بدل دیا گیا اور امریکا نے برطانیہ اور کینیڈا کے ساتھ مشاورت کے بعد جاپان کے خلاف ایٹم بم کے استعمال کا فیصلہ کیا۔

6 اگست1945 ء کو جاپان کے صنعتی شہر ہیروشیما کے رہنے والے دن کے سوا آٹھ بجے کے قریب حسب معمول ایک نئے دن کی سرگرمیوں میں مصروف تھے کہ اچانک ایک خیرہ کُن چمک سے لوگوں کی آنکھوں چُندھیا گئیں جس کے بعد بتدریج بلند ہوتا ہوا طویل دھماکا سنائی دیا اور گردوغبار کے ایک تباہ کُن طوفان نے شہر کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ آناً فاناً 80 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے جو کہ شہر کی کل آبادی کا 30 فی صد تھا۔70 ہزار زخمی پڑے تھے۔ شہر کی زیادہ تر عمارتیں صفحہ ہستی سے مٹ چکی تھیں۔ امریکا نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ تین دن بعد جاپان کے شہر ناگاساکی پر بھی یہی قیامت دُہرائی۔ ان دو ایٹمی حملوں میں 226000 ہزار لوگ لقمۂ اجل بن گئے جن میں غالب اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ اس کے بعد 14اگست کو جاپان نے اپنی شکست تسلیم کرکے ہتھیار ڈال دیئے اور دوسری عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی لیکن 75سال بعد بھی ایٹمی ہتھیاروں کا خطرہ نہ صرف بدستور موجود ہے بلکہ ان کی ہلاکت خیزی میں کئی گنا اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔

عالمی امن پر تحقیق کرنے والے ادارے ’سپری‘SIPRI نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا، روس اور چین اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید مہلک اور جدید بنانے میں مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے بعد گو کہ دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن عملی طور پر جوہری ہتھیاروں کی تنصیب میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

دنیا کے امن پسند حلقے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جوہری ہتھیاروں پر قابو پانے اور نیوکلیائی اسلحہ میں تخفیف کے سلسلے میں پیش رفت کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کے ظہور کے جوہری صلاحیتوں کے حامل ممالک پر ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے کے لئے عالمی دباو سامنے آتا رہا ہے۔ پچھلے سالوں میں امریکا، روس اور دیگر بڑے ملکوں کے حوالے سے یہ تاثر بھی پوری شدت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں نے عالمی طاقتوں کو من مانی کرنے کی زیادہ طاقت عطا کر دی ہے۔ اپنی سلامتی کے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے بعض غیر ایٹمی ملک خود کو عدم تحفظ کا شکار بھی محسوس کرتے ہیں اور اس طرح ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی خفیہ سرگرمیوں کو بڑھاوا ملتا ہے۔ اس صورت حال کا مشاہدہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی کے شکار چھوٹے ملکوں کی بے بسی کی صورت میں بھی نظر آتا ہے۔ اسی طرح ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آج بھارت کے مقابلے میں پاکستان ایٹمی صلاحیت سے محروم ہوتا تو اسے بھارت کی طرف سے بدترین بلیک میلنگ کا شکار ہونا پڑتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ علاقے کا جغرافیہ ہی بدل چکا ہوتا۔ ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے جو اہم ترین رحجان سامنے آ رہا ہے، وہ اب ان ہتھیاروں کی تباہ کاری کو محدود کرنے سے متعلق ہے۔ ایٹمی سائنسدانوں کی دوسری اہم سرگرمی ان ہتھیاروں کے حجم کو کم اور اثر کو بڑھانے سے متعلق ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی ممکنہ تباہ کاری سے متعلق دنیا کی فکرمندی اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ ملک بھی اس فکرمندی کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے ہاں ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگا رکھے ہیں۔ لیکن یہ بات سب کو سمجھ لینی چاہیے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ یا ان پر موثر کنٹرول اُس وقت تک ایک خواب ہی رہے گا جب تک اس سلسلے میں سب کے ساتھ مساویانہ اور منصفانہ برتاؤ کو یقینی نہیں بنا دیا جاتا۔