شاہ رخ کا اصل نام ’ابھینؤو’؟ گوری خان کا تہلکہ خیز انکشاف
گوری نے کنگ خان سے شادی کے بعد مذہب تبدیل کیوں نہیں کیا؟
بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کی اہلیہ انٹیریئر ڈیزائنر اور بھارتی فلم پروڈیوسر گوری خا ن آج بروز منگل 8 اکتوبر کو اپنی 54ویں سالگرہ منارہی ہیں۔
25 اکتوبر 1991 کو بالی وڈ کے مسلمان اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی ہندو مذہب سے وابستہ انٹیریئر ڈیزائنر گوری خان کی سالگرہ کے موقع پر جہاں کئی مداحوں کی جانب سے انہیں سالگرہ کی مبارکباد موصول ہورہی ہیں وہیں گوری خان کا ماضی کا ایک انٹرویو بھی ذیر بحث ہے جس میں وہ اپنے مذہب سے متعلق بات کرتی سنائی دیں۔
بین المذاہب شادی پر گوری خان کا بیان:
بین المذاہب شادی کے بندھن میں بندھنے کے باوجود خوشحال زندگی گزار کر مثال قائم کرنے والی گوری خان کا کہنا ہے کہ وہ شاہ رخ خان کے مذہب کا احترام کرتی ہیں لیکن وہ اپنا مذہب تبدیل نہیں کریں گی۔
واضح رہے کہ جب گوری نے 1991 میں شادی کی تھی تو وہ محض 21 برس کی تھیں جبکہ شاہ رخ 26 سال کے تھے۔ یہ جوڑا اکثر یہ باتیں کرتا ہے کہ ان کے خاندان نے ان کی بین المذاہب شادی پر کیسے ردعمل ظاہر کیا اور وہ دونوں مذاہب کو کس طرح قبول کرتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ یہ شادی ان کی محبت کی کہانی کی ایک مثال ہے کہ کس طرح دو مختلف پس منظر کے لوگ آپس میں جڑ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے ایمان کا احترام کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں۔
گوری کے والدین ہچکچاہٹ کا شکار کیوں؟
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ رخ خان اور گوری خان کا محبت سے لے کر شادی تک کا سفر آسان نہیں تھا۔ ابتداء میں گوری کے والدین ہچکچاہٹ کا شکار تھے کیونکہ انکی بیٹی بین المذاہب شادی کرنے کی خواہشمند تھی۔۔
اسی ہچکچاہٹ کو دور کرنے کی جدوجہد کے باری میں بات کرتے ہوئے گوری خان نے بتایا کہ،’ہم نے شاہ رخ خان کا نام ’ابھینؤو’رکھا تاکہ میرے والدین انہیں ہندو لڑکے کے طور پر دیکھیں، لیکن یہ واقعی بچگانہ اور بے وقوفی تھی۔’
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شادی کے وقت میرے خاندان میں کئی لوگوں کو یہ فکر تھی کہ کہیں شاہ رخ مجھ پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈال دیں ۔
مذہبی تہواروں میں برابری:
اپنے مذہب تبدیل نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے گوری نے ایک انٹرویو میں مزید یہ بھی بتایا کہ،’۔ میں شاہ رخ خان کے مذہب کا احترام کرتی ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنا مذہب تبدیل کروں گی۔ میرا ماننا ہے کہ ہر شخص کو اپنے عقیدے پر عمل کرنا چاہیے، اور ایک دوسرے کا احترام ہونا چاہیے۔ اسی طرح دیوالی کے موقع پر میں پوجا کی قیادت کرتی ہوں، اور پورا خاندان میرے پیچھے چلتا ہے۔ عید کے موقع پر شاہ رخ قیادت کرتے ہیں اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں۔
گوری کا مزید کہنا تھا کہ، شاہ رخ نے کبھی میرے مذہب کی بے حرمتی نہیں کریں گے۔لیکن میری والدہ اب بھی اس صورت حال سے پریشان ہوتی ہیں، جب آریان انہیں کہتا ہے، "میں مسلمان ہوں۔"
کنگ خان کے بچے کس مذہب کے پیروکار؟
2013 کے ایک انٹرویو میں شاہ رخ خان نے بتایا تھا کہ کس طرح دونوں مذاہب کی پیروی سے ان کے بچوں میں کبھی کبھار الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔
اداکار کے مطابق "کبھی کبھار بچے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں؟ تو میں ایک اچھے ہندی فلم کے ہیرو کی طرح فلسفیانہ انداز میں کہتا ہوں، 'تم پہلے بھارتی ہو، اور تمہارا مذہب انسانیت ہے،'
اسی کے ساتھ یا میں کوئی پرانا ہندی فلمی گانا گاتا ہوں، 'تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا – انسان کی اولاد ہے، انسان بنے گا،'
گوری کا نام ’عائشہ’ کب کیوں اور کس نے رکھا؟
علاوہ ازیں شاہ رخ نے گوری کے خاندان کی سوچ بیان کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ،’مجھے یاد ہے کہ گوری کے خاندان کے لوگ سرگوشیاں کر رہے تھے کہ یہ مسلمان لڑکا ہے، کیا وہ گوری کا نام تبدیل کرے گا؟ کیا گوری مسلمان بن جائے گی؟'
یہ سننے کے بعد میں نے مذاق میں کہا، 'ٹھیک ہے گوری ، اپنا برقعہ پہن لو اور نماز پڑھنے چلتے ہیں۔ اس پر پورا خاندان حیرانی سے دیکھنے لگا کہ شاید میں نے پہلے ہی اس کا مذہب تبدیل کر دیا ہو۔ میں نے انہیں چھیڑا اور کہا، 'اب سے وہ ہمیشہ برقعہ پہنے گی اور اس کا نام عائشہ ہوگا۔'





